30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھے۔ت)اور مشرکین مکہ ملاعنہ نے خود حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر معاذ اﷲ ابتداع کی تہمت رکھی تھی " مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ ۚۖ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلٰقٌ ﴿۷﴾ۚۖ "[1] (یہ تو ہم نے سب سے پچھلے دین نصرانیت میں بھی نہ سنی یہ تو نری نئی گھڑت ہے۔ت) بلکہ یہ حضرات تو فرعون و مشرکین سے بھی بڑھ کر کوئی نرالی انوکھی اصطلاح رکھتے ہیں، انہوں نے اپنے دشمنوں خدا کے محبوبوں کو کہا یہ خود اپنوں کو بلکہ اپنی ہی زبانوں سے اپنی ہی جانوں کو کہتے ہیں، آخر نہ دیکھا کہ مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہجہان پوری وعبدالماجد صاحب بدایونی نے فتوٰی شاہجہان پور میں کس شدومد سے نفس خلافت کی جڑکاٹ دی اور فتوٰی جبلپور نے ان دونوں لیڈروں مفتیوں عالموں پر کافر مرتد کی چھانٹ دی بلکہ خودمولوی ریاست علی خاں وعبدالماجد نے اسی فتوٰی شاہجہانپور کے آخر میں اپنے ہی اوپر فاسق ومفسد کی بانٹ دی ، پھر فتوی جبلفور میں علمائے دین کو کہنے کی کیا شکایت آخر نہ دیکھا کہ حق بہ حق دار ر سید رجعت علیہ ان کا کفرانہیں پر پلٹا" وَ وَیۡلٌ لِّلْکٰفِرِیۡنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیۡدِۣ ۙ﴿۲﴾"[2] (اور کافروں کی خرابی ہے ایك سخت عذاب سے۔ت) مستفتی اگر واقع میں اس گروہ سے نہ ہوتا ایك بات صاف دل سے معلوم کرنا چاہتا اور جب یہ ناپاك کفر دیکھتا اسے ردی میں پھینك دیتا تو اس پر الزام نہ آتا مگر وہ تو اول سے اسی خباثت پر اعتقاد لاتے اور اغوائے عوام کو اس کی تائید ہی کے لئے فتوے گھڑواتے ولہذا اسی گروہ ناحق پژدہ کے پاس لے جاتے اور پھر اسے مانتے اس سے احتجاج کرکے اس کی نجاست پھیلاتے ہیں تو وہ اور اس کے ماننے والے سب کفر کے ماننے والے ہیں ان کا وبال ان پر سے کم نہ ہوگا لاینقص من اوزارھم شیئ[3] (ان کے بوجھ میں کمی نہ ہوگی۔ت)اگرچہ ان کے مفتی ومصدقین پر اپنے وبال کے علاوہ ان سب کا بھی پڑے گا،
|
علیہ وزرھا ووزرمن عمل بھا الی یوم القیامۃ[4]۔ " وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ ۫"[5]۔ |
اس کا بوجھ اس پر ہوگا اور جو قیامت تك اس پر عمل پیرا ہوگا اس کا بوجھ بھی اس پر آئے گا۔(ت)اور بیشك ضرور وہ اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ(ت) |
بربنائے مذکور عالم دین کی شان میں ناشائستہ الفاظ استعمال کرنے والوں کو یہی بس ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسوں کو کھلا منافق بتایا، ارشاد فرماتے ہیں:
|
ثلاثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین |
تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگر کھلا منافق، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع