دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 14 | فتاوی رضویہ جلد ۱۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۴

" رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ "[1]

نہیں،بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے۔(ت)

ترکی ٹوپیاں جلاناصرف تضییع مال ہوتاکہ حرام ہے اور گاندھی ٹوپی پہننا مشرك کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا ہوتا کہ اس سے سخت تر،اشد حرام ہے، مگر وہ لوگ ترکی ٹوپیوں کو شعارِ اسلام جان کر پہنتے تھے اب انہیں جلادیا اور ان کے بدلے گاندھی ٹوپی لینا مشعر ہوا کہ انہوں نے نشانِ اسلام سے عدول اور کافر کا چیلا بننا قبول کیا:" بِئْسَ لِلظّٰلِمِیۡنَ بَدَلًا ﴿۵۰﴾ "[2] (ظالموں کوکیا ہی برا بدلہ ملا۔ت)بالجملہ ایسے اقوال وافعال کفر وضلال پر عالم موصوف کا انکار عین حق وصواب وسبب ثواب ورضائے رب الارباب تھا اور جوان کے شرعی احکام اہل اسلام پر ظاہر فرمانا اور ان کو"ذیاب فی ثیاب"کے شر سے بچاکر راہِ حق کی طرف بلانا، سنی عالم کا جلیل فرض مذہبی وکارمنصبی و بجاآوری حکمِ خداونبی تھا اور ہے، جل وعلٰی وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ اس کی طرف نفس خلافت کا انکار نسبت کرنا بہتان ہی نہیں چیزے دیگراست۔اس کی تہہ میں اور اشد خباثت ہے، مسلمان تو مسلمان نفس خلافت کا منکر جملہ مدعیان کلمہ گو میں کون ہے جس سے سائل سوال کرتا اور مجیب جواب دیتا اہل سنت حضرات خلفائے اربعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کو خلیفہ جانتے ہیں، غیر مقلد ودیوبندی بھی اس میں نزاع نہیں کرتے، روافض حضرت مولٰی علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ کو خلیفہ جانتے ہیں، مرزائی اپنے مرزا تك اترتے ہیں، بلکہ خلافت سے مرادمسئلہ دائرہ ہے، اسی سے سوال اسی کاتذکرہ ہے تو اسے یوں مطلق لفظ نفس خلافت سے تعبیر تلبیس ابلیس ہے اور دل میں جو مراد ہے اس کاحال خود خلافت کمیٹی کے مفتی اعظم اور مستفتی اس کے لیڈر معظم کے فتوے سے ظاہر ہوگیا کہ عالم موصوف نے وہی فرمایا جو متواتر حدیثوں میں مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے، جس پر اجماع صحابہ امجاد ہے جو جمیع اہلسنت وجماعت کا اعتقاد ہے ،اہلسنت سےخروج ،قرآن کا انکار ،کفر،ارتداد ان کے یہ چار احکام ملعونہ کاش اسی عالم دین پر محدود رہتے تو اس فتوٰی کے مفتی اور اس کے مصدقین بحکم ظواہر احادیث صحیحہ ونصوص کتب معتمدہ فقہیہ ایك ہی بلائے کفر سہتے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ایماامرئ قال لاخیہ کافر فقدباء بھا احدھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ[3]

جو شخص کسی کلمہ گو کو کافر کہے ان دونوں میں سے ایك پر یہ بلاضرور پڑے، جسے کہا اگر وہ کافر تھا خیر ورنہ یہ

 


 

 



[1] القرآن الکریم ۸۳/ ۴

[2] القرآن الکریم ۱۸/ ۵۰

[3] صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم اوکافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷،صحیح بخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن