30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بل بمعنی نترکھم ومایدینون فھو من جملۃ المعاصی التی یقرون علیھا کشرب الخمرونحوہ، ولا نقول ان ذٰلك جائزلھم فلایحل للسلطان ولا للقاضی ان یقول لھم افعلوا ذٰلك ولاان یعینھم علیہ[1]۔ |
کرتے ہیں بلکہ معنٰی یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دین پر چھوڑتے ہیں پس یہ ان کے ان معاصی سے ہے جن پر وہ قائم رہتے ہیں مثلًا شراب پیناوغیرہ،اور یہ نہیں کہتے کہ انکو جائز ہیں تو بادشاہ اور قاضی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ انہیں کہے تم یہ کام کرو اور نہ یہ کہ وہ ان کی مدد کریں۔(ت) بخلاف یہاں کے کہ ضرور جوکچھ ہوگا فریقین کی تراضی و قرار داد سے ہوگا۔ |
(۲) یہ حدیث ان لفظوں سے صحیح نہیں مگر اس مضمون میں کہ جزیرہ عرب میں کوئی نامسلم نہ رہے، متعدد صحیح حدیثیں وارد ہیں، مقصود حدیث وحکم شرعی یہ ہے کہ جزیرہ عرب میں کسی غیر مسلم کا توطن وطول اقامت جائز نہیں، تجارت وغیرہ امورِ مرخصہ کے لئے آئیں اور چلے جائیں، ظاہرًا سال بھر تك قیام کی اجازت کسی کو نہ دی جائیگی۔تیسیرالمقاصد علامہ شرنبلالی پھر درمختار میں ہے:
|
یمنعون من استیطان مکۃ والمدینۃ لانھما من ارض العرب قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایجتمع فی ارض العرب دینان ولودخل لتجارۃ جاز ولا یطیل[2]۔ |
مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ کو انہیں وطن بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ دونوں شہر ارضِ عرب ہیں، حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: زمینِ عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے، اگر تجارت کے لئے داخل ہو تو جائز ہے لیکن طویل مدت نہ رہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ لانھما من ارض العرب افادان الحکم غیر مقصود علی مکۃ والمدینۃ بل جزیرۃ العرب کلھا کذٰلك کما عبربہ فی الفتح وغیرہ فیمنع من ان یطیل فیھا المکث حتی یتخذ فیھا مسکنا لان حالھم فی المقام فی ارض العرب مع التزام |
قولہ"کیونکہ وہ ارض عرب میں سے ہیں"بتارہا ہے کہ یہ حکم محض مکہ اور مدینہ تك ہی محدود نہیں بلکہ تمام جزیرہ عرب کا یہی حکم ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں بیان ہوا ہے لہذا ایسی طویل مدت تك وہاں ٹھہرنے سے منع کیا جائے گا کہ وہاں وہ رہائش وغیرہ بنائے کیونکہ زمین عرب میں ان کا التزام جزیہ کے ساتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع