30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۶: از بستی غفران باغ آہودربہہ نئی آجمری
بخدمت حضرت مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
کیافرماتے ہیں علمائے دین موجودہ اسلامی حالت کا خیال کرتے ہوئے اور عام علماء کی تقریر متعلق ہجرت کرنے نہ کرنے کے سنتے ہوئے طبیعت پر تذبذب پیدا ہورہا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے ہجرت کروں یا نہیں؟اس کے متعلق حضور کا ذاتی خیال کیا ہے؟
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،ہجرت دو قسم ہے:عامہ و خاصہ۔عامہ یہ کہ تمام اہل وطن ترك وطن کرکے چلے جائیں۔اور خاصہ یہ کہ خاص اشخاص،پہلے ہجرت دارالحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہے،جس کا بیان آیہ کریمہ
" اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنْفُسِہِمْ "[1]الآیۃ(وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے الآیۃ۔ت)میں ہے،اس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنٰی ہیں،جس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ" اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیۡنَ "[2] الآیۃ میں ہے،باقی سب پر فرض ہے جوباوصفِ قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحقِ عذاب ہے، رہا دارالاسلام اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتی،قبور مسلمین کی بربادی،عورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی اور ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیں،اگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے،اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں وعلٰی ہذا لقیاس۔کما بینہ فی مدارك التنزیل واستشھد بحدیث(جیسا کہ مدارك التنزیل میں اس کی تفصیل ہے اور اس پر حدیث مبارکہ سے استشہاد کیا ہے۔ت)دوسرے وہ کہ یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،حدیث میں ہے:
|
کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من |
کسی آدمی کے گنہگار ہونے کےلئے اتنا کافی ہے کہ وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع