30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رضی اﷲ تعالٰی عنہ وھٰؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکامھم احکام المرتدین کذافی الظھیریۃ[1]۔ |
ہیں،اور ان کے احکام مرتدین جیسے ہوں گے،ظہیریہ میں ایسے ہی ہے۔ |
خود علامہ شامی علیہ الرحمۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ میں مؤلفِ فتاوٰی علامہ حامد آفندی عمادی سے نقل کرتے ہیں انہوں نے شیخ الاسلام عبداﷲ آفندی کے مجموعہ میں علامۃ الورٰی نوح آفندی علیہ الرحمۃ کا فتوٰی دیکھا جس میں ان سے تکفیر روافض کے بارے میں سوال ہوا تھا علامہ ان کے کلمات کفریہ لکھرکر فرماتے ہیں:
|
ثبت التواتر قطعًا عند الخواص والعوام المسلمین ان ھذہ القبائح مجتمعۃ فی ھٰؤلاء الضالین المضلین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر(الی ان قال)ولایجوز ترکھم علیہ باعطاء الجزیۃ ولابامان مؤید نص علیہ قاضی خاں فی فتاواہ ویجوز استرقاق نساء ھم لان استرقاق المرتدۃ بعد مالحقت بدار الحرب جائز الخ [2]ملتقطا۔ |
خواص وعوام مسلمانوں میں یہ بات تواتر سے چلی آرہی ہے کہ مذکور قباحتیں ان گمراہ لوگوں میں جمع ہیں جبکہ ان قباحتوں میں سے کسی ایك سے متصف ہونے والاکافر ہے،(آگے یہاں تك فرمایا)کہ جزیہ کے بدلے یا امان دے کر ان لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی،اس پر قاضیخاں نے اپنے فتاوٰی میں تصریح کی ہے اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا جائز ہوگا کیونکہ مرتدہ عورت جب دارالحرب چلی جائے تو اس کے بعد اس کو لونڈی بنانا جائز ہے الخ اھ ملتقطا(ت) |
فتاوٰی علامہ قاضی خاں میں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل علیہ الرحمۃ سے دربارہ مبیض ومبیضہ کے اول زن و شوہر تھے پھر دونوں مسمان ہوئے عورت نے اور مسلمان سے نکاح کرلیا منقول:
|
ان کانا یظھران الکفرا واحد ھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما ویصح نکاح المرأۃ مع الثانی [3] انتہی باختصار۔ |
مردو عورت دونوں یا ان میں سے ایك جب کفر کا اظہار کرے تو ان کا حکم مرتدوں والا ہوگا،ان کا نکاح ختم ہوجائیگا اور وہ عورت دوسرے کے لئے حلال ہوگی،اھ،مختصرا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع