30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر تاہم جبکہ علماء کا اختلاف ہے اوراس قول پر فتوٰی بھی منقول ہوچکا تو احتیاط اسی میں ہے کہ نصارٰی کی نساء وذبائح سے احتراز کرے،اور آج کل بعض یہود بھی ایسے پائے جاتے ہوں جو عزیر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ابنیت مانیں تو ان کے زن وذبیحہ سے بھی بچنا لازم جانیں کہ ایسی جگہ اختلاف ائمہ میں پڑنا محتاط آدمی کا کام نہیں،اگر فی الواقع یہ یہود و نصارٰی عنداﷲ کتابی ہوئے تاہم ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کے تناول میں ہمارے لئے کوئی نفع نہیں،نہ شرعًا ہم پر لازم کیاگیا،نہ بحمد اﷲ ہمیں اس کی ضرورت بلکہ برتقدیر کتابیت بھی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بے ضرورت احتراز چاہئے،
|
فی الفتح القدیر یجوز تزوج الکتابیات والاولٰی ان لایفعل ولایأکل ذبیحتھم الاللضرورۃ الخ[1] |
فتح القدیر میں ہے کتابیات سے نکاح جائز ہے،اور اولٰی یہ ہے کہ نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کاذبیحہ بغیر ضرورت کھایا جائے الخ(ت) |
اور اگر انہیں علماء کا مذہب حق ہو ااوریہ لوگ بوجہ اعتقادوں کے عنداﷲ مشرك ٹھہرے تو پھر زنائے محض ہوگا اور ذبیحہ حرام مطلق والعیاذ باﷲ تعالٰی،توعاقل کاکام نہیں کہ ایسا فعل اختیار کرے جس کی ایك جانب نامحمود ہو اور دوسری جانب حرام قطعی،فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ ایسا ہی گمان کرتا تھا یہاں تك کہ بتوفیق الٰہی مجمع الانہر میں اسی مضمون کی تصریح دیکھی،
|
حیث قال فعلی ھذایلزم علی الحکام فی دیارنا ان یمنعوھم من الذبح لان النصارٰی فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحھم اﷲ تعالٰی وعدم الضرورۃ متحقق والاحتیاط واجب لان فی حل ذبیحتھم اختلاف العلماء کما بیناہ فالاخذبجانب الحرمۃ اولی عندعدم الضرورۃ [2]انتہی،واﷲ تعالٰی سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔ |
جہاں انہو ں نے فرمایا کہ اس بناء پر ہمارے ملك کے حکام پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو نصارٰی کے ذبیحہ سے منع کریں کیونکہ ہمارے زمانہ کے نصارٰی عیسٰی علیہ السلام کے ابن اﷲ ہونے کی تصریح کرتے ہیں،جبکہ ضرورت بھی متحقق نہیں ہے تو احتیاط واجب ہے کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو حرمت والی جانب اپنانا بہتر ہے جبکہ ضرورت نہیں ہے اھ،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع