30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یرد فیھم مثل ذٰلك فلم یجز قیاسھم علٰی ھٰؤلاء ولاالخروج عن قضیۃ العقل فی بابھم،والحاصل ان کتابیۃ القائلین بالبنوۃ والوھیۃ الغیر من الیھود والنصاری واردۃ فیما احسب علی خلاف القیاس فیقصر علی المورد،وبھذاتبین ان ماقالہ ذٰلك البعض من المشایخ ان عبادۃ الکواکب لاتخرج الصابئۃ عن الکتابیۃ قول مھجور وان کلام الھدایۃ والتنویر غیرمحمول علی ظاھرہ وان الحق مع العلامۃ صاحب البحر فی تصحیحہ اشراکھم ان کانوا یعبدون الکواکب وانہ لاتنا فی بین تصیحیحۃ ھذا وقولہ سابقًا فی اولٰئك الیھود والنصاری ان المذھب الاطلاق وان قالوا بثالث ثلثۃ وبہ ظھران انتصار العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر والمولٰی محمد بن عابدین فی ردالمحتار لذلك البعض من المشایخ بان مامرمن حل النصرانیۃ وان اعتقدت المسیح الٰھا یؤید قول بعض المشایخ [1] انتہی مبنی علی الذھول عن ھذاالفرق فاغتنم تحریر ھذاالمقام فقد زلت فیہ اقدام و الحمد ﷲ ولی الانعام۔ |
متعلق ایسی کوئی نص نہیں ہے اس لئے صابی لوگوں کو ان یہود ونصارٰی پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کے بارے میں عقلی کلیہ کو ترك کیا جائے گا،خلاصہ یہ کہ یہود ونصارٰی کتابی لوگ جو بنوت کے قائل ہونے کے باوجود غیراﷲ کی الوہیت کے قائل ہیں کو اہل کتاب ماننا میرے خیال میں خلافِ قیاس ہے لہذا یہ حکم اپنے مورد میں ہی محفوظ رہے گا جس پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا،اس سے ان بعض مشائخ کا یہ نظریہ کہ ستاروں کی پوجا صابیہ عورت کو کتابیہ سے جدا نہیں کرتی،واضح طور پر متروك قرار پاتا ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہدایہ اور تنویر کا کلام ظاہری معنٰی پر محمول نہیں ہے،اور صاحب بحر کا کلام حق ہے کہ صابی لوگ اگر ستاروں کی پوجا کرتے ہیں تو وہ مشرك ہیں جس کی انہوں نے تصحیح کی ہے،اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ بحر کی اس تصحیح اور اسکے پہلے قول کہ یہود ونصاری کا اہل کتاب ہونا علی الاطلاق مذہب ہے اگرچہ وہ ثالث ثلٰثہ کے قائل ہیں میں منافات نہیں ہے او ر اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ علامہ عمر ابن نجیم کا نہر میں اور علامہ محمد بن عابدین کا ردالمحتار میں مذکور بیان کہ نصرانی عورت اگرچہ مسیح علیہ السلام کوالٰہ ہونے کا عقیدہ رکھے تب بھی اس سے نکاح حلال ہے کو ان بعض مشائخ کی تائید ماننا الخ اس فرق سے ذہول پر مبنی ہے،اس تحریر کو غنیمت سمجھو،کیونکہ اس میں بہت سے قدم پھسلے ہیں،نعمتوں کے مالك اﷲ تعالٰی کے لئے ہی حمد ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع