30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حقیقۃ فلیسوا اھل الکتاب وان کانوایعظمونھا کتعظیم المسلمین للکعبۃ فھم اھل الکتاب کذافی المجتبٰی [1]انتہی فیستفاد منہ ان الصحیح مباینۃ الکتابیۃ لعبادۃ غیراﷲ سبحانہ وتعالٰی فلایجتمعان ابداوحِ یتجہ مامال الیہ کثیر من المشائخ فی حق اولٰئك الیھود والنصارٰی انھم مشرکون حقاحتی قیل ان علیہ الفتوی قلت وباﷲ التوفیق ھٰھنا فرق دقیق ھوان قضیۃالعقل ھی المباینۃ القطعیۃ بین الکتابیۃ وعبادۃ غیراﷲ سبحانہ وتعالٰی فانھا ھی الشرك حقا والکتابی غیر مشرك عند الشرع فکل من رأیناہ یعبد غیرالحق جل وعلا حکمنا علیہ انہ مشرك قطعا وان کان یقر بکتب وانبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام ولکنا خالفناہ ھذہ القضیۃ فی الیھود والنصارٰی بحکم النص فانا وجدنا القراٰن العظیم یحکی عنھم مایحکی من العقائد الخبیثۃ ثم یحکم علیھم بان ھم اھل الکتاب ویمیزھم عن المشرکین فوجب التسلیم لورودالنص بخلاف الصابئۃ اذ |
کہ اگر یہ لوگ حقیقۃً ستاروں کی عبادت کرتے ہوں تو یہ اہل کتاب نہ ہوں گے اور اگر وہ صرف ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں جیسا کہ مسلمان کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں تو پھر یہ اہل کتاب ہیں،مجتبٰی میں یونہی ہے اھ،تو اس بیان کا مفادیہ ہے کہ کتابیہ اورغیراﷲ کی عبادت والی،ایك دوسرے سے الگ ہیں دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا تو اب اس سے بہت سے مشائخ کا ان یہود و نصارٰی کے متعلق یہ نظریہ قابل توجہ قرار پایا کہ یہ لوگ حقیقی مشرك ہیں حتی کہ بعض نے اسی پر فتوٰی کا قول کیا ہے۔قلت(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالٰی کی توفیق سے،کہ یہاں ایك باریك فرق ہے وہ یہ کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ کتابیہ اورغیراﷲ کی عبادت کرنے والی عورت ایك دوسرے سے قطعًا جدا ہیں،کیونکہ غیراﷲ کی عبادت قطعًا شرك ہے جبکہ شرعًا کتابیہ غیرمشرك ہے لہذا جس کو بھی غیراﷲ کی عبادت کرنے والا پائیں گے اس کو قطعًا مشرك کہیں گے اگرچہ وہ کتب اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا اقرار کرے لیکن ہم نے اس عقلی کلیہ کا خلاف یہود ونصارٰی میں نص کے حکم پر مانا ہے کہ ہم نے قرآن کو ان کے عقائد خبیثہ کی حکایت کرنے کے باوجود یہ حکم کرتے ہوئے پایا کہ یہ اہل کتاب ہیں،اور یہ کہ قرآن ان میں اور مشرکین میں امتیاز بھی کرتا ہے لہذا نص کے وارد ہونے پر اسکو تسلیم کرنا واجب ہے بخلاف صابیہ عورت کے کہ اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع