30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعلم بمذاھبھم واعلم بما یشرع من الاحکام فلہ الحکم ولہ الحجۃ السامیۃ لاالٰہ الاھو " سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾"[1]حتی ترقتی بعض المشائخ فجوز نکاح الصائبات ایضًا ان کن یدن بکتاب منزل ویؤمن بنبی مرسل وان عبدن الکواکب وصرح انھا لاتخرجھم عن الکتابیۃ وھو الذی یعطیہ ظاہرکلام الامام المحقق برھان الملۃ والدین المرغینانی فی الھدایۃ حیث رتب عدم حل النکاح علی امرین عبادۃ الکواکب وعدم الکتاب وتبعہ العلامۃ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی فی التنویر فقال لاعبادۃ کوکب لاکتاب لھا [2] فاشار بمفھوم المخالف الی انھا ان کان لھا کتاب حل نکاحھا مع عبادتھا الکواکب، فان قلت الیس قد تکلم فیہ المولٰی زین بن نجیم فی البحر فقال الصحیح انھم ان کانوا یعبد ونھا یعنی الکواکب
|
جدانہ ہوں گے،تو اس آیۃ کریمہ میں دونوں میں عطف کے ذریعہ تغایر کی رہنمائی فرمائی،تو اﷲ سبحانہ وتعالٰی ان کے مذاہب کو بہتر جانتا ہے اور احکام کی مشروعیت کو بہتر جانتا ہے،تو حکم اسی کا ہے اوربلند وبالا حجت اسی کی ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جس کو انہوں نے شریك بنایا اﷲ تعالٰی اس سے بلند وبالا ہے اور بعض مشائخ نے اسی پر ترقی کرتے ہوئے صابی عورتوں سے نکاح کو بھی جائز قرار دیا بشرطیکہ وہ کسی دین کی آسمانی کتاب اور کسی نبی پر ایمان رکھتی ہوں اگرچہ وہ ستاروں کی پجاری ہوں اور انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ ستاروں کی پوجا ان کو کتابیہ ہونے سے خارج نہیں کرتی،یہ وہ نظریہ ہے جو امام محقق برہان الملت والدین مرغینانی کی کتاب ہدایہ کے ظاہر کلا م سے ملتا ہے،جہاں انہوں نے نکاح کے عدمِ جواز کو دوچیزوں پر مرتب کیا ایك ستاروں کی پوجا اور دوسری کتاب کا نہ ہونا،اور اس کی علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی نے تنویر میں اتباع کرتے ہوئے فرمایا کہ ستاروں کی پوجا نہ کرتی ہو اور اس کی کتاب بھی نہ ہو۔تو اس عبارت کے مفہوم مخالف سے یہ اشارہ دیا کہ اگر اس کی کتاب ہو تو نکاح جائز ہے اگرچہ وہ ستاروں کی پوجا کرتی ہو۔ اگر تیرا اعتراض ہو کہ اس مسئلہ میں مولانا زین نجیم نے کیا گفتگو کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع