30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
فی المعراج ان اشتراط ماذکر فی النصاری مخالف لعامۃ الروایات[1]۔ |
معراج میں ہے کہ نصارٰی کے مذکورہ شرائط عام روایات کے مخالف ہیں۔(ت) |
امام محقق علی الاطلاق مولٰنا کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام رحمۃ اﷲ علیہ فتح القدیر میں اس مذہب کی ترجیح اور دلیل مذکور مذہب اول کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
|
مطلق لفظ المشرك اذاذکر فی لسان الشارع لا ینصرف الی اھل الکتاب وان صح لغۃ فی طائفۃ بل طوائف واطلق لفظ الفعل اعنی یشرکون علی فعلھم کما ان من رأی بعلمہ من المسلمین فلم یعمل الالاجل زید یصح فی حقہ انہ مشرك لغۃ ولایتبادر عند اطلاق الشارع لفظ المشرك ارادتہ لما عھد من ارادتہ بہ من عبد مع اﷲ غیرہ ممن لایدعی اتباع نبی وکتاب ولذلك عطفھم علیہ فی قولہ تعالٰی لم یکن الذین کفر وامن اھل الکتٰب والمشرکین منفکین ونص علی حلھم بقولہ تعالٰی والمحصنٰت من الذین اوتوالکتٰب من قبلکم ای العفائف منھم [2]الی اٰخرما اطال واطاب کما ھودابہ رحمہ اﷲ تعالٰی۔ |
لفظ مشرك جب مطلق ذکر کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں اہل کتاب کو شامل نہ ہوگا اگرچہ لغت کے لحاظ سے اہل کتاب کے کسی گروہ یا کئی گروہوں پر اس کا اطلاق صحیح ہے،اہل کتاب کے فعل پر صیغہ"یشرکون"کا اطلاق ایسے ہے جیسے کسی مسلمان ریاکار کے اس عمل پر جس کو مثلًا زید کی خوشنودی کےلئے کررہا ہوتو کہا جاسکتا ہے کہ یہ لغت کے لحاظ سے مشرك ہے،شرعی اصطلاح میں مطلقًا لفظ مشرك کا استعمال صرف اس شخص کے لئے متبادر ہوتا ہے،جو کسی نبی اور کتاب کی اتباع کے دعوٰی کے بغیر اﷲ تعالٰی کی عبادت میں غیر کو شریك کرے اسی لئے اہل کتاب پر مشرکین کا عطف اﷲ تعالٰی کے اس قول"لم یکن الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین منفکین"میں کیا گیا ہے اور اﷲتعالٰی کے اس قول"والمحصنٰت من الذین اوتوالکتٰب"میں کتابیہ عورتوں کے حلال ہونے پر صراحتًا نص فرمائی گئی ہے یعنی اہل کتاب کی عفیف عورتیں حلال ہیں،ابن ہمام کے طویل اور طیب قول کے آخر تک،جیسا کہ ان کی عادت ہے،اﷲ تعالٰی ان پر رحمت فرمائے۔(ت) |
بالجملہ محققین کے نزدیك راجح یہی ہے کہ یہود ونصارٰی مطلقًا اہل کتاب ہیں اور ان پر احکام مشرکین جاری نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع