30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھو اول ان کے اقوال خبیثہ یاد فرماکر آخر ان کے شرك سے اپنی نزاہت وتبری بیان فرمائی تو معلوم ہوا کہ قائلین بنوت مشرکین ہیں مگر ظاہرالروایۃ میں ان پر علی الاطلاق حکم کتابیت دیا اور ان کے ذبائح ونساء کو حلال ٹھہرایا،درمختار میں ہے:
|
صح نکاح کتابیۃ وان کرہ تنزیھا مؤمنۃ بنبی مرسل مقرۃ بکتاب منزل وان اعتقدوا المسیح الٰھا وکذاحل ذبیحتھم علی المذھب بحرانتہی[1]۔ |
کتابیہ عورت سے نکاح صحیح ہے اگرچہ مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ عورت کسی مرسل نبی پر ایمان رکھتی ہو اور کسی منزل من اﷲ کتاب کا اقرار کرتی ہواگرچہ عمومی طور پر وہ نصاری عیسٰی علیہ السلام کو الٰہ مانتے ہوں یونہی ان کا ذبیحہ بھی مذہب میں حلال ہے،بحر،اھ۔(ت) |
ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے:
|
وحاصلہ ان المذھب الاطلاق لما ذکرہ شمس الائمۃ فی المبسوط من ان ذبیحۃ النصرانی حلال مطلقًا، سواء قال بثالث ثلثۃ اولا،لاطلاق الکتاب ھنا وھو الدلیل ورجحہ فی فتح القدیرالخ[2]۔ |
حاصل یہ ہے کہ مذہب میں اطلاق ہے کیونکہ شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں یہ ذکر کیا ہے کہ نصرانی کا ذبیحہ مطلقًا حلال ہے وہ عیسٰی علیہ السلام کے متعلق ثالث ثلٰثہ کا قول کریں یا نہ کریں کیونکہ کتاب اﷲ کا یہاں ا طلاق ہے اور یہی دلیل ہے،اس کو فتح القدیر میں ترجیح دی ہے الخ(ت) |
مستصفٰی میں عبارت مذکورہ کے بعد مبسوط سے ہے:
|
لکن بالنظر الی الدلائل ینبغی ان یجوز الاکل و التزوج انتہی[3]۔ |
لیکن دلائل کو دیکھتے ہوئے یہی مناسب قول ہے کہ ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے انتہی۔(ت) |
فتاوٰی حامدیہ میں ہے:
|
مقتضی الدلائل الجواز کما ذکرہ التمر تاشی فی فتاواہ،الخ[4]۔ |
دلائل کا مقتضٰی یہی ہے کہ جائز ہے جیسا کہ اسے تمرتاشی نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے الخ(ت) |
[1] درمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۹
[2] ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۸۹
[3] فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۳۵
[4] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الذبائح ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۳۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع