30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان الامام کلما فتح بلدۃ من بلاد الکفار واجری فیھا احکام الاسلام صارت دارالاسلام والتی تلیہا من البلاد تحت حکم الکفار دارحرب کما کانت اوتفطن ان لوصح ماقالہ لاستحال ان یکون شیئ من دیارالکفر دارحرب الاان یفصل بینھا وبین الحدود الاسلامیۃ البحاروالمفاوزولم یقل بہ احد،وذلك لانہ کلما حکمت علی بلدۃ بانھا دارحرب سألنا عما یحیطھا من البلاد فان کان فیھا من بلاد الاسلام کانت الاولی ایضا دارالاسلام لعدم الاتصال بالمعنی المذکور والانقلنا الکلام الی مایلاصقھا حتی ینتہی الی بلدۃ من بلاد الاسلام فتصیر کلھا دارالاسلام لتلازق بعضھا ببعض اولاتکون فی تلك الجھۃ بلدۃ اسلامیۃ الی منقطع الارض،وبالجملۃ ففساد ھذا القول اظھر من ان یخفی وانما منشؤہ القیاس الفاسد وذٰلك ان الشرط عندالامام فی صیرورۃ بلدۃ من دار الاسلام دارالحرب ان لاتکون محاطۃ بدار الاسلام من الجہات الاربع وذٰلك لان غلبۃ الکفار اذن علی شرف الزوال فلاتخرج بہ |
کہ مسلمان امام جب کفار کے کسی علاقہ کو فتح کرکے وہاں اسلامی احکام جاری کردیتا تو وہ علاقہ دارالاسلام بن جاتا ہے جبکہ اس سے متصل باقی علاقے جو کفار کے قبضہ میں بدستور ابھی تك موجود ہیں وہ پہلے کی طرح دارالحرب ہیں،یاان کو سمجھ آتی کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اگر صحیح ہوتو پھر دنیا بھر میں کوئی بھی دارکفر اس وقت تك دارالحرب نہ کہلائے جب تك ان میں اور دارالاسلام میں سمندروں اور بیابانوں کا فاصلہ نہ ہو، حالانکہ کوئی بھی دارالحرب کے اس معنٰی کا قائل نہیں ہے،یہ اس لئے کہ جب آپ کسی ملك کو دارالحرب کہیں گے تو ہم استفسار کریں گے کہ اس کے ارگرد کن ملکوں کا احاطہ ہے اگر کوئی بھی ان میں سے دارالاسلام ہوتو پہلاملك (دار الحرب) بھی دارالاسلام قرار پائے کیونکہ وہ اتصال جودار الحرب کا معیار ہے وہ نہ پایاگیا،ورنہ اگر ارد گرد اسلامی ملك نہ ہوتو پھر ہم اس سے ملنے والے دوسرے ملك کی بابت معلوم کریں گے حتی کہ ملتے ملاتے کوئی دارالاسلام پایاگیا تو یہ درمیان والے تمام ملك دارالاسلام ہوجائیں گے کیونکہ ان ملکوں کا آپس میں ایك دوسرے سے اتصال ہوگیا ہے،یاپھر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس جہت میں کرہ ارض میں کوئی بھی دارالاسلام نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ دارالحرب کے اس میعاد والے قول کا فساد واضح ہے جس میں کچھ بھی خفاء نہیں ہے،اس کی بنیاد یہ فاسد قیاس ہے کہ امام صاحب کے نزدیك کسی دارالاسلام کے دارالحرب بننے کے لئے یہ شرط ہے کہ چاروں اطراف سے وہ ملك دارالاسلام میں گھراہوانہ ہو کیونکہ اگر وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع