30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قاضیا علیھم وناھیك بہ قاضیا عدلا،فالثانی ان ھٰؤلاء العلماء ھم الذین قالوا فی دارالحرب انھا تصیر دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا فاما ان تقولوا ھٰھنا ایضا انھا تصیردار الاسلام باجراء بعض احکام الاسلام ولومع جریان بعض احکام الکفر فعلی ھذاترفع المباینۃ بین الدارین اذکل دارتجری فیھا الحکمان مع استجماع بقیۃ شرائط الحربیۃ تکون دارحرب واسلام جمیعا لصدق الحدین معًا وکذا لواردت الخلوص والتمحض فی کل الموضعین یعنی ان دارالحرب مایجری فیھا احکام الشرك خالصۃ ودارالاسلام مایحکم فیھا باحکام الاسلام محضۃ فعلی ھذاتکون دارالتی وصفناھالك واسطۃ بین الدارین ولم یقل بہ احد،واماان ترید التمحض فی المقام الثانی دون الاول فھذا یخالف ماقصدہ الشارع من اعلاء الاسلام وبنی العلماء کثیرا من الاحکام علی ان الاسلام یعلوولایعلی،علی انہ یلزم ان تکون دورالاسلام |
امام صاحب کا کلام ہی فیصلہ کن ہے تجھے یہی فیصلہ کن کلام کافی ہے۔۲دوسری چیز یہ کہ یہی وہ علماء کرام ہیں جنہوں نے دارالحرب کے متعلق فرمایا کہ وہ دارالاسلام بن جاتا جب اس میں اسلامی احکام جاری کئے جائیں،تو اگر یہاں بھی وہ بعض اسلامی احکام مراد لیں(جس طرح کہ دارالحرب کے لئے کفار کے بعض احکام تم نے مراد لئے)تو جب بعض اسلامی احکام کے ساتھ کچھ احکام کفار ہوں گے تو اس سے دارالحرب اور دارالاسلام کے درمیان فرق ختم ہوجائے گا،کیونکہ ان دونوں میں سے ہرایك میں دونوں قسم کے حکم پائے جائیں گے اگرچہ کفار کے احکام زائد ہوں تو لازم آئے گا کہ ہر ایك دار الحرب اور دارالاسلام بھی ہو کیونکہ دونوں پر ہرایك کی تعریف صادق آئے گی،اگر تم یہاں یہ مراد لو کہ ہر دار میں اس کے تمام احکام وہاں نافذ ہوں اور ایك دوسرے کے احکام سے خالی ہوں یعنی دارالحرب وہ ہے جس میں تمام احکام خالص کفر کے ہوں اور دارالاسلام وہ ہے جس میں خالص اسلامی احکام ہوں،تو اس سے لازم آئے گا کہ جس دار کی بحث ہورہی ہے وہ دونوں داروں میں واسطہ کہلائے گا یعنی وہ نہ دارالاسلام ہونہ دارالحرب ہو،حالانکہ ایسے دار کا کوئی بھی قائل نہیں،اگر تم یہ مراد لو کہ ثانی یعنی دارالاسلام میں توخالص اسلامی ہوں اورد وسرے یعنی دارالحرب میں خالص ہونا ضروری نہیں تو اس سے شارع کا مقصد اعلاء کلمہ اسلام اور اس کی ترجیح فوت ہوجائیگی جو شارع کے مقصد کے خلاف ہے جبکہ علماء نے بہت سے احکام"الاسلام یعلوولایعلٰی"(اسلام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع