30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صارت دارالاسلام باجراء الاحکام فمابقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام[1]وعن البرھان شرح مواھب الرحمٰن لایصیر دارالحرب مادام فیہ شیئ منھا بخلاف دارالاسلام لانارجحنا اعلام الاسلام واحکام اعلام کلمۃ الاسلام[2] وعن الدر المنتقٰی لصاحب الدرالمختار دارالحرب تصیر دارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام[3]۔ |
احکام جاری کرنے سے بنتا ہے تو جب تك وہاں اسلام کے متعلقات باقی ہیں تو وہاں اسلام کے پہلو کو ترجیح ہوگی۔اور برہان شرح مواہب الرحمٰن سے منقول ہے کوئی علاقہ اس وقت تك دارالحرب نہ بنے گا جب تك وہاں کچھ اسلامی احکام باقی ہیں،کیونکہ اسلامی نشانات کو اور کلمہ اسلام کے نشانات کے احکام کو ہم ترجیح دیں گے،دارالاسلام کا حکم اسکے خلاف ہے۔صاحب درمختار کی المنتقٰی سے منقول ہے کہ دارالحرب میں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے دارالاسلام بن جاتا ہے۔(ت) |
شرح نقایہ میں ہے:
|
لاخلاف ان دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا[4]۔ |
بلا اختلاف دارالحرب وہاں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے وہ دارالاسلام بن جاتا ہے(ت) |
اور اسی میں ہے:
|
وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ای الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کمافی العمادی وغیرہ[5]۔ |
شیخ الاسلام اور امام اسبیجابی نے فرمایا:کسی بھی علاقہ میں کوئی ایك اسلامی حکم بھی باقی ہوتو اس علاقہ کو دارالاسلام کہا جائے گا،جیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔(ت) |
پھر اپنے بلاد اور وہاں کے فتن و فساد کی نسبت فرماتے ہیں:
|
فالاحتیاط یجعل ھذہ البلاد دارالاسلام والمسلمین وان کانت للملاعین والید فی الظاھر |
احتیاط یہی ہے کہ یہ علاقہ دارالاسلام والمسلمین قرار دیاجائے، اگرچہ وہاں ظاہری طور پر شیطانوں کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع