30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا کا قامۃ الجمعۃ والاعیادوان بقی فیھا کافر اصلی ولم یتصل بدارالاسلام بان کان بینھا وبین دار الاسلام مصر اٰخر لاھل الحرب [1]الخ ھذا لفط العلامۃ خسر و واثرہ شیخی زادہ فی مجمع الانھر، وتبعہ المولی الغزی فی التنویر،واقرہ المدقق العلائی فی الدر، ثم الطحطاوی والشامی اقتدیا فی الحاشیتین ۔ |
دارالحرب،اسلامی احکام جاری کرنے مثلًا جمعہ اور عیدین وہاں ادا کرنے پر دارالاسلام بن جاتا ہے اگرچہ وہاں کوئی اصلی کافر بھی موجود ہو اور اس کا دارالاسلام سے اتصال بھی نہ ہویوں کہ اس کے اور دارالاسلام کے درمیان کوئی دوسرا حربی شہر فاصل ہو الخ،یہ علامہ خسر وکے الفاظ ہیں،اور مجمع الانہر میں شیخی زادہ نے اس کی پیروی کی ہے،اور مولٰی غزی نے تنویر میں اس کی اتباع کی،اور مدقق علائی نے درمیں اس کو ثابت رکھا،پھر طحطاوی اور شامی نے اپنے اپنے حاشیہ میں اسکی اقتدا کی۔(ت) |
جامع الفصولین سے نقل کیا گیا:
|
لہ ان ھذہ البلدۃ صارت دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا فما بقی شیئ من احکام دارالاسلام فیھا تبقی دارالاسلام علی ماعرف ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ، ھکذاذکر شیخ الاسلام ابوبکر فی شرح سیر الاصل انتہی،[2] وعن الفصول العمادیۃ ان دارالاسلام لا یصیر دار الحرب اذابقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل الاسلام وعن منثور الامام ناصر الدین دارالاسلام انما |
امام صاحب کے ہاں دارالحرب کا علاقہ اسلامی احکام وہاں جاری کرنے سے دارالاسلام بن جاتا ہے تو جب تك وہاں اسلامی احکام باقی رہیں گے وہ علاقہ دارالاسلام رہے گا،یہ اس لئے کہ حکم جب کسی علت پر مبنی ہوتو جب تك علت میں سے کچھ پایا جائے تو اس کی بقاء سے حکم بھی باقی رہتا ہے جیسا کہ معروف ہے۔ابوبکر شیخ الاسلام نے اصل(مبسوط)کے سیر کے باب کی شرح میں یونہی ذکر فرمایا ہے،اھ، فصول عمادیہ سے منقول ہے کہ دارالاسلام جب تك وہاں احکام اسلام باقی رہیں گے تو وہ دارالحرب نہ بنے گا اگرچہ وہاں اہلِ اسلام کا غلبہ ختم ہوجائے، امام ناصرالدین کی منثور سے منقول ہے کہ دارالاسلام صرف اسلامی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع