30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقف،وصیت،شفعہ وغیرہا،بہت معاملات مسلمین ہماری شریعت غرابیضاء کی بناپر فیصل ہوتے ہیں کہ ان امور میں حضرات علماء سے فتوٰی لینا اور اسی پر عمل و حکم کرنا حکام انگریزی کو بھی ضرور ہوتا ہے اگرچہ ہنود و مجوس و نصارٰی ہوں اور بحمد اﷲ یہ بھی شوکت و جبروت شریعت علیہ عالیہ اسلامیہ اعلی اﷲ تعالٰی حکمہا السامیہ ہے کہ مخالفین کو بھی اپنی تسلیم اتباع پر مجبور فرما تی ہے والحمد ﷲ رب العالمین،فتاوٰی عالمگیریہ میں سراج وہاج سے نقل کیا:
|
اعلم ان دارالحرب تصیردار الاسلام بشرط واحد وھو اظہار حکم الاسلام فیھا[1]۔ |
جان لو کہ بیشك دارالحرب ایك ہی شرط سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہاں اسلام کا حکم غالب ہو جائے(ت) |
پھر سراج وہاج سے صاحب المذھب سیدنا و مولٰنا محمد بن الحسن قدس سرہ الاحسن کی زیادات سے کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے نقل کیا:
|
انما تصیر دار الاسلام دارالحرب عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی بشروط ثلاثۃ،احدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلام،ثم قال و صورۃ المسئلۃ ثلاثۃ اوجہ اما ان یغلب اھل الحرب علی دار من دورنا او ارتد اھل مصر غلبوا واجروااحکام الکفر او نقض اھل الذمۃ العھد و تغلبواعلی دارھم ففی کل من ھذہ الصور لاتصیر دار حرب الابثلاثۃ شروط،وقال ابویوسف ومحمد رحمہما اﷲ تعالٰی بشرط واحد وھو اظہار احکام الکفر وھو القیاس الخ[2] |
امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك دارالاسلام تین شرائط سے دارالحرب ہوتا ہے جن میں ایك یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور وہاں اسلام کا کوئی حکم نافذ نہ کیاجائے،پھرفرمایا اور مسئلہ کی صورت تین طرح ہے اہلِ حرب ہمارے علاقہ پر غلبہ پالیں یا ہمارے کسی علاقہ کے شہری مرتد ہوکر وہاں غلبہ پالیں اور کفر کے احکام جاری کردیں یا وہاں ذمی لوگ عہد کو توڑ کر غلبہ حاصل کرلیں،تو ان تمام صورتوں میں وہ علاقہ تین شرطوں سے دارالحرب بن جائے گا وہ یہ کہ احکام کفر اعلانیہ غالب کردئے جائیں۔یہی قیاس ہے الخ(ت) |
درر غرر ملاخسرومیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع