30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماں نے نکاح کیا،اگر کفو کے ساتھ کیا اور لڑکی نے بالغ ہوتے ہی اس سے انکار نہ کیا،نکاح لازم ہوگیا۔ |
٣٤٦ |
نابالغہ کے معاف کئے سے مہر معاف نہیں ہوسکتا۔ |
٣٣٣ |
|
باپ دادا نہ ہوں تو نابالغوں کی ولایت نکاح کا حق چچاکو ہے۔ |
٣٩١ |
صورت جماع میں دوسرے شوہر پر بھی مہر مثل واجب ہے۔ |
٣٤٣ |
|
ماں مرگئی بچہ کا حق پرورش نانی کو ہے اور اس کے ماں کی ولایت باپ کو حاصل ہے۔ |
٣٩٤ |
نکاح فاسد میں اگر شوہر نے وطی صحیح کرلی تو مہر مثل اور مہر مسمی میں سے جو کم ہے وہ دینا لازم ہوگا۔ |
٣٥١ |
|
نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کا نگران باپ کے چچا زاد بھائی کے علاوہ نہیں تو ولایت نکاح بھی اسی کو حاصل ہے اور پرورش کے لئے کسی صالح دیندار عورت کو تلاش کیا جائے گا اور مال کی نگہداشت باپ دادا کا وصی ہو تو وہ کرے ورنہ قاضی اس کے لئے بھی کسی دیندار مسلمان کا انتخاب کرے۔ |
٣٩٩ |
زید نے رضاعی بھانجی سے نکاح کیا کچھ عرصہ بعد تفریق ہوگئی تو پورا مہر مثل لازم ہوگا نہ کہ مہر مسمی۔ |
٣٧٥ |
|
نابالغوں کے نکاح کا اختیار عصبات میں چچا کو ہے اگر وہ موجود ہے۔ |
٤٠٨ |
محارم سے نکاح کے بعد تفریق ہو تو مرد پر پورا مہر مثل واجب ہوگا مہر مسمی کا لحاظ نہ ہوگا۔ |
٣٧٨ |
|
باپ کے انتقال کے بعد لڑکی کے نکاح اور مال کی نگہداشت کا حق دادا کوہے اور نو برس تك پرورش کا حق ماں کو ہے۔ |
٤١٢ |
زید وہندہ نکاح کے بعد ایك ہی مکان میں رہتے تھے باہم مواصلت بظاہر نہیں ہوئی،بچہ پیدا ہوا شرعا بچہ زید کا ہے،اگر زید نے طلاق دی پورا مہر واجب ہوگا۔ |
٣٨٠ |
|
مہر |
|
شوہر کو حق حبس زوجہ،مہر معجل کی ادائیگی کے بعد حاصل ہوتاہے۔ |
٤١٧ |
|
شوہر نے کہا تو مہر بخشے تو طلاق دوں گا۔عورت بولی اگر تو طلاق دے تو میں نے مہر بخش دیا،شوہر نے دو طلاق دی،طلاق واقع ہوئی مہر ساقط نہ ہوا۔ |
٢۰٢ |
مہر معجل نہ ادا ہو تو عورت شوہر کو انتفاع اور رخصتی سے روك سکتی ہے،اور اس صورت میں ناشزہ نہ ہوگی۔ |
٤١٨ |
|
مہر اگر نہ معجل ہو نہ مؤجل تو جب تك موت یا طلاق نہ ہو عورت کو اس کے مطالبہ کا اختیار نہیں۔ |
٢١٧ |
جہاں مہر میں تعجیل یا تأجیل کچھ مذکور نہ ہو تو وہاں حکم عرف رواج کے مطابق ہوگا۔ |
٤٢٤ |
|
خلوت صحیحہ سے عدت لازم آجاتی ہے مہر بھی پورا واجب ہوتاہے۔ |
٣٠٧ |
ہمارے بلاد میں عامہ مہوریوں بندھتے ہیں کہ ان میں تعجیل وتاجیل کچھ مشروط نہیں ہوتی تو بحکم عرف شائع وذائع یہاں کی عورتیں جب تك مرگ یا طلاق سے افتراق نہ واقع ہو ہر گز مطالبہ مہر کا استحقاق نہیں رکھتیں،نہ قاضی کو اختیار ہے کہ ایسی صورت میں پیش از افتراق ادائے مہر پر جبر کرے۔ |
٤٢٤ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع