30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بین النفاق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط[1]۔ اماقولہ ان اﷲ یغفر لمن یشرك بہ لمن یشاء فمخالف للقراٰن العظیم قال اﷲ عزوجل ان اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ[2]واما قولہ لاٰیات القراٰن العظیم والاحادیث ھذا لیس بشیئ فھذالیس بشیئ الاالکفر الجلی تجری بہ علیہ احکام المرتدین فعلیہ ان یسلم واذااسلم فلیجدد نکاحہ برضألمرأۃ وان لم ترضی فلھا الخیار تعتد وتنکح من تشاء،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
(٢)الحکم بالکفر علی تارك الصلٰوۃ وارد فی صحاح الاحادیث وعلیہ جمھور الصحابۃ والتابعین ولیست المسألۃ فقہیۃ بل کلامیۃ وقد اختلف اھل السنۃ قدیما فمن قال باحد القولین لایخرج بہ عن الحنفیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کے بغیر دوسرا نہیں کرسکتا ایك عالم،دوسرا وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا،اور تیسرا مسلمان عادل بادشاہ،تاہم اس کا یہ کہنا کہ،اﷲ تعالٰی جس مشرك کو چاہے بخش دیتا ہے،تویہ قرآن عظیم کے مخالف ہے،کیونکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالٰی شریك بنانے والے کونہیں بخشتا،اس کے علاوہ جس کو چاہے بخشتا ہے۔ اور اس کا قرآن وحدیث کے متعلق یہ کہنا کہ،یہ کوئی چیز نہیں ہے،یہ توخالص ایسا کفر ہے جس پر مرتدوں والے احکام جاری ہوتے ہیں،لہذا اس پر تجدید اسلام ضروری ہے اور مسلما ن ہوکر عورت کی رضامندی سے دوبارہ اس سے نکاح کرے،اگراس سے نکاح پر راضی نہ ہوتو بیوی کو اختیار ہے کہ وہ عدت پوری کرکے کسی اور سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کرے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (٢)نماز کے تارك پر احادیث صحیحہ میں کفر کا اطلاق آیا ہے،اور جمہور صحابہ وتابعین کا یہی مسلك ہے جبکہ یہ مسئلہ فقہی نہیں بلکہ علمِ کلام سے متعلق ہے،اس میں اہلسنت کا قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے لہذا اگر کوئی دو قولوں میں سے ایك قول کو اختیار کرے تو وہ حنفیت سے خارج نہ ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع