30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب
مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی مردود اببلیس کہنا سخت حرام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکْتَسَبُوۡا فَقَدِ احْتَمَلُوۡا بُہۡتٰنًا وَّ اِثْمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾ [1]۔ |
وہ لوگ جو مومن مرد اور عورتوں کو بلاوجہ اذیت دیتے ہیں تو بیشك انہوں نے بہتان اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا۔(ت) |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اٰذی مسلمافقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اٰذی اﷲ[2]۔ |
جس نے کسی مسلمانوں کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ کو ایذادی۔ |
اور مسلمانوں کو کافر کہنا تو ایسا سخت ہے کہ احادیث کثیرہ صحیحہ میں فرمایا فقد باء بہ احدھما [3]یہ بلادونوں میں سے ایك پر ضرور پڑے گی جسے کافر کہا اگر وہ وقع میں کافر ہے تو خیر ورنہ یہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آئے گا، ولہذا امام اعمش وائمہ بلخ وغیرہم کثیر فقہائے کرام کا فتوی یہی ہے کہ جو مسلمان کو کافر کہے خود کافر ہوجاتا ہے والصحیح فیہ تفصیل اوردنا ھافی فتاوٰنا(اورصحیح یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے جس کو ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے)عین حالت خطبہ میں تصحیح بکر کے بعد بھی جو زید بار بار اپنی قرأت کرتا رہا یہ بھی حرام تھا،
|
قال اﷲ تعالٰی وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾[4]۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو تاکہ تم پررحم کیاجائے۔(ت) |
زید اگر بلاوجہ شرعی ان الفاظ کا مرتکب ہواہے تو اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور بکر سے معافی چاہے ورنہ وہ فاسق معلن ہے اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع