30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وذوالعلم وامام مقسط۔[1] |
عالم تیسرا بادشاہ اسلام عادل۔ |
صورت واقعہ اگر یونہی ہے جیسے سوال میں مذکور ہوئی تو وہ شخص ضرور مرتکب کبیرہ ہوا،مگر اسلام و نکاح میں خلل نہیں کہہ سکتے جب تك کوئی خاص قول و فعل ان میں مخل صادر نہ ہوا ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٨٧:از بشارت گنج ضلع بریلی مسئولہ حاجی غنی رضاخاں صاحب ٤رجب ١٣٣٩ھ
زید ایك شخص ہے جس کا نکاح بکر کی لڑکی ساتھ ہوا ہے،اب چند بچے پیدا ہونے کے بعد زید نے اپنی بیوی کی ہمشیرہ کے ساتھ یعنی حقیقی سالی کے ساتھ بھی عقد کرلیا ہے اور دونوں سے مراسم بیوی کی ادا کرتا ہے اور دونوں کی اولاد بھی ہے،اور زید قوم قصاب سے ہے،آیا ایسی حالت میں اس کو زانی کہہ سکتے ہیں یانہیں؟اور اس کے ہاتھ کا گوشت خرید نا چاہئے یانہیں؟اور اس کی موت میں شریك ہونا چاہئے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
وہ ضرور حرامکار ہے، اس سے گوشت خریدنا بلکہ سلام کلام کرنا ہی نہ چاہئے،موت اس کے عزیز و قریب کرلیں گے اوروں کو بلاضرورت شرکت کی حاجت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٨٨: مرسلہ محمدتقی مقام بکسر متصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی بخش صاحب ٢٩ربیع الاول ١٣٣٥ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کو اوقاتِ مختلفہ میں اببلیس مردود کافر متعدد بار کہا،زید معمر ہے بکر نوعمر،بکر یوم جمعہ کو خطبہ جمعہ پڑھ رہا تھا،اثناءِ خطبہ میں کسی آیہ کریمہ میں غلطی ہوئی زید نے چلا کر بتایا،بکر نے اپنی غلطی کی اصلاح کر لی مگر زید نے اسی ساعت میں چلا چلا کر چند بار اپنی قرأت کرتا ہی رہا،پھر بعد فراغ نماز زید نے سب لوگوں کو ٹھہرایا اور کہنے لگا یہ مردود اببلیس ہمیشہ غلط پڑھتا ہے اورمجھے ذبح کردیا ہے،بکر نے سوائے سکوت کوئی جواب نہیں دیا،اور اگر زید موجود ہے تو بکر نماز پڑھانے کے لئے زید کو کہلائے مگر زید نہ پڑھائے،پھر بکر نے دوجمعہ پڑھا کر جواب دیا کہ وہ شخص جمعہ پڑھائے جس سے کوئی غلطی نہ ہو۔مقتدیوں نے کہا تم ضرور پڑھاؤ تو مخالفت کا باعث معلوم ہوتا ہے اور ثابت بھی ہوگیا،بہر حال دوسرے امام مقرر کئے گئے چند دنوں بعد امام صاحب نے انتقال فرمایا اس کے بعد زید خود ہی نماز پڑھانے لگا،اس حالت میں زید کی امامت صحیح ہوگی یانہیں؟اور ان دونوں میں شرعًا کافر واببلیس کون ہوگا؟
[1] المعجم الکبیر حدیث٧٨١٩ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ٨/٢٣٨،کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ فی التوبیخ حدیث ٤٣٨١٢ موسسۃ الرسالۃ بیروت ١٦/٣٢
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع