30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدر؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس کے بھائی نے اس کے ساتھ کوئی معاملہ خلاف اخوت کیا جو بھائی بھائی سے نہیں کرتا تو اس پر اس کہنے میں الزام نہیں کہ اس نفی سے نفیِ حقیقت مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی ثمرہ،اور ایسا نہیں بلکہ بلاوجہ شرعی یوں کہاتوتین کبیروں کا مرتکب ہوا،کذبِ صریح وقطع رحم وایذائے مسلم،اس پر توبہ فرض ہے اور بھائی سے معافی مانگنی لازم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٨٢تا٢٨٤:معرفت مصطفی رضاخان صاحب بروز پنجشنبہ ٢٩صفر المظفر١٣٣٢ھ
(١)بعض لوگوں کا قاعدہ ہے کہ مثلا کسی نے کہا کہ فلاں کے گھر چور ی ہوئی انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا چوری ہوئی،پھر بعض دفعہ تو جو ظاہر کلام ہے ظاہر مرادہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ مرادہوتا ہے کہ چونکہ مثلًا مال رہنا مضر تھا یا اس کا انہیں غرور تھا لہذا اچھا ہوا چوری ہوگئی کہ غرور جاتا رہا یا مضردور ہوگیا دونوں تقدیروں پر یہ ممنوع چیز کو اچھا کہنا کیسا ہے؟
(٢)ایك شخص سے کوئی خلاف کلمہ نکلا بعد کو اس نے صراحۃ انکار کیا اور اس کا قبح تسلیم کرلیا یا اس کو چھوڑ کر اس کے مخالف حق کلمہ کا اقرار کیا آیا یہ توبہ ہوگئی یا ضرور ہے کہ لفظ توبہ کہے۔
(٣)ہمارے اعزہ میں سے ایك عورت نے اپنے شوہر سے ناراض ہوکر کہا نہ معلوم تمہیں فلاں کے مکان سے(نام لے کر)کیا عشق ہے،شوہر نے کہا خداجانے،اس پر عورت نے کہا کچھ بھی خداجانے نہیں ہے،اور اس کے بعد ایك اور جملہ کہا جو شاید یہ تھا کہ سب تمہارے حیلہ حوالے بیکار یہ ان بے پروائیاں ہیں،یہ جملہ کیسا ؟اس کا کیاحکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
(١)اس سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ سرقہ اچھی بات ہے جس سے حرام قطعی کا استحقاق بلکہ استحسان ہو کر معاذ اﷲ نوبت بہ کفر پہنچے بلکہ اس مسروق منہ کے نقصان مال کا استحسان سمجھا جاتا ہے اور یہی مقصود ہوتا ہے کہ کبھی براہ حسد ہوتا ہے اور حسد حرام ہے،اس صورت میں تو مطلقًا گناہ ہے،کبھی براہِ عداوت ہوتا ہے کہ دشمن کا نقصان دشمن کو پسند آتا ہے اس کا حکم اس عداوت کا تابع رہے گا اگر عداوت مذمومہ ہے یہ بھی قبیح ومذموم ہے اور اگر عداوت محمودہ ہے جیسے اعداء اﷲ سے دشمنی تو اس میں حرج نہیں جیسے رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤی اَمْوٰلِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ[1] (اے ہمارے رب ! ان کے مال برباد کردے اور ان کے دل سخت کر دے۔ت)جب دعا سے اس کا نقصان چاہنا روا ہے توبعد وقوع اس پر خوش ہونا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع