30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: ای صراحۃ فیہ بل تقییدہ بالخوف المذکور بما یؤید التقیید السابق فان مثل التمرد لاینزجر بالزجر ۹قولہ یفید صحۃ اقول: قدمنا مافیہ ۱۰قولہ قررناہ اقول: قد علمت مافیہ ۱۱قولہ فلایقتضی اشتراط العلم اقول: بلی یقتضیہ لان مراد الشارع ازالۃ المنکرات المظلمۃ لااھلاك النفوس المسلمۃ فاذا حصلت بدونہ وجب قصرالید عنہ،۱۲قولہ حیث تعین القتل طریقا اقول ھذاایضا نص فی اشتراط القید المذکور وقد عادالمحشی رحمہ اﷲ تعالٰی بنفسہ الی الصواب اذاقال علی قول الشرح وعلی ھذا القیاس المکابر بالظلم وقطاع الطریق وصاحب المکس وجمیع الظلمۃبادنی شیئ لہ قیمۃ وجمیع الکبائر والاعونۃ
|
اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں کون سی صراحت ہے بلکہ اس میں تو قید کی صراحت ہے کہ کسی طرح خوف دلانے سے باز نہ آئے،جیسا کہ سابقہ قیدکا بیان اس کی تائید کررہا ہے کہ سرکش آدمی باز رکھنے کی کوشش سے باز نہیں آتا،قولہ یفید صحۃ اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں اعتراض ہے جس کو ہم نے پہلے بیان کردیا ہے،قولہ قد علمت مما قررناہ ہماری بیان کردہ تقریر سے آپ کو معلوم ہوگیا، اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں جو کمزوری ہے وہ آپ کو معلوم ہوچکی ہے قولہ فلایقتضی اشتراط العلم تووہ علم کی شرط کا مقتضی نہ ہوا، اقول:(میں کہتا ہوں)بلکہ یہ علم کی شرط کا تقاضا کرتی ہے،کیونکہ شارع کی مراد ظالمانہ کارروائیوں سے دفاع ہے نہ کہ مسلمانوں کی جانوں کو ہلاك کرنا،تو جب قتل کے بغیر دفاع ممکن ہو تو قتل سے بازرہنا ضروری ہے،قولہ حیث تعین القتل طریقا جہاں ازالہ برائی کا طریقہ قتل متعین ہے اقول:(میں کہتا ہوں)یہ بھی مذکور قید کی شرط ہونے میں نص ہے اور محشی خود بخود درستی کی طرف لوٹ آئے ہیں،جب انہوں نے شرح کی اس عبارت(اسی قیاس پر ہے جو اعلانیہ چیز کو چھین لے،ڈاکو،ظالمانہ ٹیکس وصول کرنیوالا اور ہر ظالم جو کمتر قیمت والی چیز کو ظلم سے چھین لے اور جو ظالم مرتکب کبیرہ کے ہوں اور انکے اہلکار اور چغلخور ایسے تمام لوگوں کا قتل مباح ہے اور انکا قاتل ثواب کا مستحق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع