30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولیس القتل سیاسۃ للامام ایضا الافی جنایۃ عظمت وفحشت کمامر قبیل باب وطئ یوجب الحدان اللوطی والسارق والخناق اذا تکرر منھم ذٰلك حل قتلھم سیاسۃ اھ فلم یکتف فی تلك العظائم ایضا بمجرد صدورھا بل قید حل القتل بتکررھا وسیأتی ان الشارح اطلق اباحۃ القتل فی جمیع الکبائر فقیدہ المحشی بماکان منھا متعدی الضرر وھو الحق الواضح ان شاء اﷲتعالٰی ولم ینقل عن السلف قتل کل من اتی کبیرۃ فضلا عن الصغیرۃ ولواسیع القتل فی الصغائر وجعل ذٰلك الی العامۃ لاتسع الخرق وفشاالقتل فی المسلمین والعیاذ باﷲ تعالٰی فای یوم لاتری جھلا من الناس علی شیئ من الصغائر فقتل کل من تراہ وھذا لیس من حکم اﷲ فی شیئ فلاشك ان مافی الحاوی مردود واﷲ الموفق کیف وھو من الزاھدی المعتزلی المعروف بجمع کل غث وسمین الغیر الموثوق بنقلہ ایضا الغیر المعتمد علیہ فی روایۃ ولادرایۃ کما صرح بہ ارباب الدرایۃ،۸قولہ فھذا صریح |
گناہوں میں سے ہے حالانکہ امام کو صرف کسی بڑی جنایت اور فحش گناہ میں سیاسۃً قتل کرنا جائز ہوتا ہے جیسا کہ ایسی وطی جس سے حد لازم ہوتی ہے،کے باب سے تھوڑا پہلے گزرا ہے کہ لوطی،چور اور پھندا ڈالنے والا،یہ لوگ جب بار بار کارروائیاں کریں تو ان کو سیاسۃً قتل کرنا حلال ہے اھ۔تو ان عظیم کارروائیوں پر بھی محض ان کے صدور پر نہیں بلکہ ان کے تکرار پر قتل کو حلال کہا،اور عنقریب آئے گا کہ شارح نے تمام کبیرہ گناہوں کے متعلق سیاسۃً قتل کو مباح کہا تو خود محشی نے اس کو ایسے گناہ سے مقید کیا جس کا ضرر متعدی ہو،۔اور یہی واضح حق ہے ان شاء اﷲ تعالٰی،جبکہ اسلاف سے ہر کبیرہ گناہ کے مرتکب کے متعلق قتل منقول نہیں ہے چہ جائیکہ کسی صغیرہ گناہ پر قتل منقول ہو،اور اگر صغائر کے متعلق بھی قتل کو جائز قرار دے دیا جائے اور عوام کو یہ اختیار دیا جائے تو پھر امن تہ وبالا ہوجائے اور مسلمانوں میں قتلِ عام شروع ہوجائے،والعیاذ باﷲ تعالٰی۔بتائیے لوگوں کی جہالت سے صغائر سے کوئی دن خالی ہے تو کیا ہر ایك مرتکب صغیرہ قتل کیا جائے حالانکہ یہ کہیں بھی اﷲ تعالٰی کا حکم نہیں ہے تو بیشك حاوی زاہدی کا بیان مردود ہے،اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق حق عطا فرماتا ہے،یہ کیسے صحیح ہو جبکہ یہ زاہدی معتزلی جو کہ ثقہ اور غیر ثقہ ہر قسم کی روایات کو نقل کرنے میں بھی مشہور ہے او رروایت اور درایت کے لحاظ سے غیر معتمد علیہ باتوں کو نقل کردیتا ہے جیسا کہ ارباب درایت نے اس کی تصریح فرمائی ہے،قولہ فھذا صریح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع