30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الفقیہ ابوجعفر واعتمدہ المعتمدون وتقدم عن شرح الوھبانیۃ وسینقلہ المحشی عن ابن وھبان و سیمشی علیہ بنفسہ ۵قولہ ویدل علیہ عبارۃ المجتبٰی الاتیۃ،ای شرحا حیث اطلق فی الزنا ان لہ القتل ولم یقید بشیئ اقول وفیہ ماذکر الشارح ان المطلق یحمل علی المقید وکیف یرد اطلاق المجتبٰی علی تقیید المعتمدات وحمل المطلق علی المقید جادۃ واضحۃ بخلاف الغاء القید،۶قولہ فی الحاوی الزاھدی مایؤیدہ ایضا اقول: بل یخالفہ فانہ جعل لہ القتل مطلقا فی الدواعی وانتم تخصصونہ بالزنا،۷قولہ او یقبلھا الخ اقول: لم یشرع اﷲ تعالٰی فی الدواعی القتل ولیست السیاسۃ لغیر الامام بل لیست الدواعی الاالصغائر
|
مطلقًا جائز ہوگا،اقول:(میں کہتا ہوں)مقصد تو برائی کا ازالہ ہے،تو جب یہ ازالہ قتل کے بغیر کسی ادنیٰ طریقہ پر ممکن ہوتو وہ ادنیٰ طریقہ اس کے لئے متعین قرار پائے گا جیسا کہ امام فقیہ ابوجعفر نے یہ فائدہ بیان فرمایا اور اسی پر اعتماد کرنے والوں نے اعتماد کیا ہے،اور شرح وہبانیہ سے منقول ہوچکا ہے اور محشی بھی اس کو عنقریب ابن وہبان سے نقل کریں گے اور وہ خود اس کو اپنائیں گے،قولہ یدل علیہ عبارۃ المجتبٰی یعنی مجتبٰی کی آئندہ عبارت بطور شرح آئیگی جہاں وہ زنا کے متعلق قتل کو مطلق بیان کریں گے اور قتل کو کسی شرط سے مقید نہ کریں گے اقول:(میں کہتا ہوں)اس میں اعتراض ہے کہ شارح نے یوں بیان فرمایا کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا،اور معتمد علیہ کتب کی بیان کردہ قید کے باوجود مجتبیٰ کا اطلاق کیسے وارد ہوگیا حالانکہ واضح طریقہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتاہے جبکہ قید کو لغو بنانا اس کے خلاف ہے، قولہ فی الحاوی الزاھدی مایؤیدہ ایضا حاوی زاہدی کا بیان بھی اس کی تائید کرتا ہے اقول:(میں کہتاہوں)بلکہ وہ تو اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے دواعی زنا میں بھی قتل کو مطلق جائز رکھا ہے جبکہ تم اس کو زنا سے ہی مخصوص کرتے ہو،قولہ او یقبلھا الخ یا وہ عورت کا بوسہ لے رہا ہو اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالٰی نے زنا کے دواعی میں قتل کو مشروع نہیں فرمایا،اور نہ ہی امام کے غیر کوسیاسی قتل روا رکھا ہے بلکہ دواعی تو صرف صغیرہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع