30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی المقید ثم انما مبناہ علی ماسبق الی خاطرہ رحمہ اﷲ من التوفیق الاتی لہ وسیأتیك الکلام علیہ ولیس الامر کماظن بل اصل المسئلۃ للامام الفقیہ الھند وانی سئل عن رجل وجد مع امرأتہ رجلا ایحل لہ قتلہ قال ان کان یعلم انہ ینزجر عن الزنا بالصیاح والضرب بما دون السلاح لایحل وان علم انہ لاینزجر الابالقتل حل لہ القتل وان طاوعتہ المرأۃ حل لہ قتلھا ایضا اھ،ہندیۃ عن النھایۃ وعنہ اخذفی منیۃ المفتی فعبرعنہ بماتری وسنحقق انہ لایحل القتل فی الدواعی کالمس والتقبیل والعناق فکیف بمجرد الخلوۃ ولااعلم لہ رحمہ اﷲ تعالٰی سلفا فیہ وکیف یحل الاجتراء علی قتل مسلم باستظھار بعید تفرد بہ عالم فی ھذاالزمان من دون سلف ولا برھان بل علی خلاف اصول الشرع المزدان وقضیۃ نصوص ائمۃ الشان حتی نفس |
کو مقید پر محمول کرنے کی وجہ کو بطور افادہ بیان کردیا ہے پھر ان کے خیال میں اس تطبیق کا مبنیٰ وہ توفیق و تطبیق ہے جو انہوں نے آئندہ ذکر فرمائی ہے،حالانکہ اس پر اعتراض آرہا ہے،لہذا معاملہ وہ نہیں ہے جو انہوں نے خیال فرمایا،بلکہ اصل مسئلہ امام ہندوانی کا پیش کردہ ہے،جب ان سے ایسے شخص کے متعلق سوال ہوا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو بدفعلی کرتے پایا کہ کیا اسے اس مرد کو قتل کرنا حلال ہے؟تو جواب میں انہوں نے فرمایا کہ اگر خاوند کو یقین ہوکہ زانی شور مچانے یا پٹائی کرنے پر زنا سے باز آجائے گا تو قتل کرنا حلال نہ ہوگا اور اگر یقین ہوکہ قتل کے بغیر بازنہ آئے گا تو قتل کرنا حلال ہوگا،اور اگر بیوی اس مرد کے ساتھ راضی ہوتو اس کو بھی قتل کرنا حلال ہے اھ،یہ ہندیہ میں نہایہ سے منقول ہے،اور نہایہ سے ہی منیۃ المفتی میں نقل کیا لیکن جس طرح انہوں نے تعبیر کی وہ آپ کے سامنے ہے،اور ہم عنقریب ثابت کریں گے کہ ایسی صورت میں محض زنا کی دواعی مثلًا چھونے،بوسہ لینے یا معانقہ کرنے کی وجہ سے قتل کرنا حلال نہیں ہے چہ جائیکہ محض خلوت نشینی کی وجہ سے قتل حلال ہو،ا ور مجھے ان سے پہلے اس بارے میں کسی کا قول معلوم نہیں ہوا،تو اس زمانے کے ایك عالم کے متفرد قول کی بناء پر کسی مسلمان کے قتل پر کیسے جرأت کی جاسکتی ہے جبکہ اس قول کی وجہ بھی بعید ہو اور پہلے بھی کسی نے یہ بات نہ کی ہو اور نہ ہی اس پر کوئی دلیل ہو بلکہ اصول شرع اور عظیم الشان ائمہ کرام کی نصوص کے خلاف ہوحتی کہ خود |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع