30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وردہ ابن وھبان بانہ لیس من الحد بل من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر و ھو حسن فان ھذا المنکر ۱۲حیث تعین القتل طریقا فی ازالتہ فلامعنی لاشتراط الاحصان فیہ ولذااطلقہ البزازی اھ قلت ویدل علیہ ان الحد لایلیہ الاالامام[1]اھ، وکتبت علیہ فی جدالممتار ۱ قولہ کما یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی ای فانہ لما اطلق فیھا الحکم بالقتل عن قید عدم الانزجار قید معیۃ المرأۃ بالزنا وھٰھنا الحکم مقید بعدم الانزجار فتکون المعیۃ مقید ابعدم الزنا کیلا یتعارضا، اقول: ولایخفی علیہ مافی ھذہ الدلالۃ من البعد والنظر الی الخارج وابداء جمع بینہ وبین کلام اخر لیس منہ دلالۃ ھذاالکلام فی شیئ لاسیما وذلك الجمع غیر متبین ولامتعین لانتفاء التعارض بما افاد الشارح من حمل المطلق
|
ابن وہبان نے رد کردیا ہے کہ یہ حد نہیں بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے،یہ اچھی بات ہے کیونکہ یہ ایسی برائی ہے کہ اس کے ازالہ کے لئے قتل ایك طریقہ ہے لہذا اس قتل کےلئے شادی شدہ ہونے کی شرط بے معنی ہے اس لئے بزازی نے اس کو مطلق رکھااھ قلت(میں کہتا ہوں کہ) اس پر دلالت یہ بھی ہے کہ حد کو صرف امام ہی نافذ کرسکتا ہے کسی دوسرے کو اس کی ولایت نہیں ہے۔ردالمحتار کا کلام ختم ہوا۔میں نے اس پر جدالممتار میں لکھا ہے قولہ کما یدل علیہ مایأتی عن منیۃ المفتی جس طرح کہ اس پر منیۃ المفتی کا آئندہ کلام دلالت کررہا ہے،کیونکہ جب انہوں نے قتل کے حکم کو باز نہ آنے کے علم کی شرط سے عام رکھا جبکہ عورت کے ساتھ ہونے کو زنا سے مقید کیا اور یہاں حکم کو باز نہ آنے کے علم سے مقید کیا تو عورت کے ساتھ معیت عدم زنا سے مقید ہوگی تاکہ دونوں باتیں متعارض نہ ہوں، اقول:(میں کہتا ہوں)اس دلالت کا بعید ہونا آپ پر مخفی نہیں ہے،اور اس سے خارج امور اور اس کلام اور دوسرے کلام کے درمیان جمع کی صورت واضح ہوجانے کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اس کلام کی دلالت اس معاملہ میں بالکل نہیں ہے خصوصًا جبکہ یہ جمع و موافقت غیر واضح اور غیر معین ہوجائے اس سبب سے کہ شارح علیہ الرحمۃ نے اس تعارض کو ختم کرنے کے لئے مطلق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع