30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رأی رجلا مع امرأتہ فی مفازۃ خالیۃ اوراٰہ مع محارمہ ھکذا ولم یرمنہ الزنا ودواعیہ قال بعض المشائخ حل قتلھما وقال بعضھم لایحل حتی یری منہ العمل ای الزنا ودواعیہ ومثلہ فی خزانۃ الفتاوٰی اھ وفی سرقۃ البزازیۃ لورأی فی منزلہ رجلا مع اھلہ او جارہ یفجر وخاف ان اخذہ ان یقھرہ فھو فی سعۃ من قتلہ ولو کانت مطاوعۃ لہ قتلھما ۸فھذا صریح فی ان الفرق من حیث رؤیۃ الزنا وعدمھا تأمل، قولہ (مطلقا)ای بلافرق بین اجنبیۃ وغیرھا قولہ (وھو الحق)مفھومہ ان مقابلہ باطل،ولم یظھر من کلامہ مایقتضی بطلانہ،بل مانقلہ بعدہ عن المجتبٰی ۹یفید صحتہ و۱۰قد علمت مماقررناہ مایتفق بہ کلامھم واما کون ذٰلك من الامر بالمعروف لامن الحد ۱۱ فلا یقتضی اشتراط العلم بعدم الانز جارتأمل، قولہ (بلاشرط احصان)ردعلی مافی الخانیۃ من قولہ وھو محصن کما قد مناہ،وجزم بہ الطرطوسی قال فی النھر
|
اگر اس نے اپنی بیوی یا اپنی محرمہ عورت کے ساتھ بیابان خالی جگہ میں کسی کو دیکھا لیکن زنا یا دواعی میں مصروف نہ پایاتو بعض مشائخ نے فرمایا اسکو دونوں کا قتل کرنا حلال ہے،اور بعض نے فرمایا جب تك بدفعلی میں مصروف نہ پائے قتل کرنا حلال نہیں ہے،اور اسی طرح خزانۃ الفتاوی میں بھی مذکور ہے اھ،اور بزازیہ کے سرقہ کے باب میں ہے کہ،اگر وہ اپنے گھر میں اپنی بیوی سے کسی شخص یا پڑوسی کو بدفعلی کرتے ہوئے دیکھ لے اور پکڑنے پر خطرہ محسوس کرے کہ زانی غالب رہے گا تو اس صورت میں اس کو قتل کرنے کا جواز ہے اور بیوی کو بھی جرم میں راضی و شریك پایا تو دونوں کو قتل کرنے کا جواز ہے،تو اس سے صراحۃً معلوم ہوا کہ فرق بدفعلی میں مصروف پانے اور نہ پانے کا ہے،غور کرو۔ قولہ (مطلقا)یعنی اجنبیہ اور غیر اجنبیہ کے فرق کے بغیر۔ قولہ (ھو الحق)یعنی اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا مقابل باطل ہے اس کے کلام سے یہ ظاہر نہیں ہو ا کہ اس کا مقابل باطل ہے بلکہ اس کے بعد اس نے مجتبی کا جو کلام نقل کیا ہے اس سے اس کی صحت معلوم ہورہی ہے،ہماری تقریر سے ان کے کلام کا متفق ہونا آپ کو معلوم ہوگیا،لیکن محض امر بالمعروف ہونا اور حد نہ ہونا،بازنہ آنے کے علم کی شرط کونہیں چاہتا،غور کرو۔ قولہ(بلاشرط احصان)یہ خانیہ کے قول کہ"وہ شادی شدہ ہو"کار د ہے،جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔طرطوسی نے اسی پر جزم کیا ہے۔نہر میں فرمایا کہ اس کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع