30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مافی المنیۃ مطلق فیحمل علی المقید لیتفق کلامھم، ولذا جزم فی الوھبانیۃ بالشرط المذکورمطلقا وھو الحق بلاشرط احصان لانہ لیس من الحد بل من الامر بالمعروف وفی المجتبی الاصل ان کل شخص رأی مسلما یزنی انہ یحل لہ قتلہ وانما یمتنع خوفا من ان لایصدق انہ زنی[1]وکتبت علیہ فی جدالممتار قولہ وفی غیرھا یحل اقول: المقصود ازالۃ المنکر ومھما حصل بغیر القتل تعین ذٰلك الغیر ولیست السیاسۃ لغیر الامام والقتل فی الزوجۃ والمحرم دون الاجنبیۃ لایکون الاانتصارالنفسہ وازالۃ المنکرﷲ عزوجل ولافرق فیہ بین الاجنبیۃ وغیرہا فالکل اماء اﷲ تعالٰی علی السواء وفیہ حدیث سعد بن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ونھی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاہ عن القتل فالحق عندی التسویۃ بین النساء و التقیید لعدم الانزجار بغیر القتل مطلقا |
اگرچہ منیۃ المفتی میں اطلاق ہے،تو اس مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا تاکہ سب کا کلام متفق قرارپائے،اسی لئے وہبانیہ نے مذکورہ شرط کا مطلقًا جزم کیا ہے اوریہی حق ہے اس قتل میں کسی کا شادی شدہ ہونا شرط نہیں کیونکہ یہ موقعہ کا قتل حد نہیں بلکہ امر بالمعروف کی صورت ہے،اور مجتبی میں ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو زنا میں مصروف پائے تو اس کو قتل کرنا حلال ہے لیکن بعد میں زنا ثابت نہ کرسکنے کے خوف سے قتل نہ کرے۔ میں نے تنویر اور در کی اس عبارت پر جدالممتار میں یہ لکھا ہے قولہ کہ غیراجنبی عورت میں حلال ہے اقول:(میں کہتا ہوں)مقصود تو برائی کا ازالہ کرنا ہے تو جب تك قتل کے بغیر ازالہ ممکن ہو تو یہ غیر قتل کی صورت متعین قرار پائے گی،جبکہ سیاسۃً قتل کرنا امامِ وقت کے غیر کے لئے جائز نہیں ہے،اور بیوی اور محرمہ کے معاملہ میں قتل کرنا تو اپنے مفاد کے لئے ہے جبکہ برائی کا ازالہ اﷲ تعالٰی کی رضا کے لئے ہوتا ہے اس معاملہ میں اپنی اور اجنبی عورت برابر ہیں،تما م عورتیں اﷲ تعالٰی کی باندیاں ہونے میں برابر ہیں،اس حکم میں مساوات کے بارے میں سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے کہ ان کوحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قتل سے منع فرمایا:تو میرے نزدیك اجنبی اور غیر اجنبی عورت کا معاملہ مساوی ہے لہذا قتل کے جواز کے لئے قتل کے بغیر باز نہ آنے والی شرط عام ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع