30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کمن وجد رجلا مع امرأۃ لاتحل لہ،ولواکرھھا فلھا قتلہ ودمہ ھدر وکذاالغلام وھبانیۃ(ان کان یعلم انہ لاینزجر بصیاح وضرب بما دون السلاح والا) بان علم انہ ینزجر بما ذکر(لا)یکون بالقتل (وان کانت المرأۃ مطاوعۃ قتلھما)کذاعزاہ الزیلعی للھند وانی ثم قال(و)فی منیۃ المفتی(لوکان مع امرأتہ و ھو یزنی بھا او مع محرمہ وھما مطاوعان قتلھما جمیعا)اھ واقرہ فی الدررقال فی البحرومفادہ الفرق بین الاجنبیۃ لایحل القتل الا بالشرط المذکور من عدم الانزجار المزبور وفی غیرھا یحل(مطلقا)اھ، وردہ فی النھر بما فی البزازیۃ وغیرہا من التسویۃ بین الاجنبیۃ وغیرھا ویدل علیہ تنکیر الھندوانی للمرأۃ ،نعم
|
ایك شخص نے کسی مرد کو غیر محرم کے ساتھ پایا تو اگر عورت سے جبرًا زنا کررہا ہوتواس عورت نے زانی کو موقعہ پر قتل کردیا یا لڑکے سے جبرًا بدفعلی کرتے ہوئے لڑکے نے اس کو قتل کردیا ہوتو یہ قتل مباح ہوا اور اس کا خون معاف ہے،وہبانیہ۔بشرطیکہ قتل کرنے والے کو یقین ہو کہ یہ شور مچانے یا ہتھیار سے کم کی ضرب سے باز نہ آئے گا،(ورنہ)اگر معلوم ہو کہ مذکورہ کو شش سے باز آجائیگا تو پھر(روانہیں) یعنی باز کرنے کے لئے قتل مباح نہیں ہے اور اگر(مرد کے ساتھ عورت بھی مرضی سے مبتلائے زنا ہو تو موقعہ دیکھنے والادونوں تو قتل کردے)اس کو زیلعی نے ہندوانی کی طرف ایسے ہی منسوب کیا ہے،پھر کہا(اور)منیۃ المفتی میں ہے(اگر اس کی بیوی کے ساتھ کوئی زنا میں مصروف ہے یا اس کی محرمہ عورت کے ساتھ مصروف زنا ہے اور دونوں کی مرضی شامل ہے تو(دونوں کو قتل کردے)اھ،اور اس بات کو درر میں ثابت رکھا ہے،اور بحرمیں فرمایا کہ اس بحث کا مفاد یہ ہے کہ اجنبی عورت اور اپنی بیوی یا محرمہ عورت میں فرق ہے کہ اجنبی عورت کے ساتھ مصروف زنا پائے تو مذکورہ شرط کہ شور یا ہتھیار کے بغیر باز نہ کے بغیر قتل حلال نہ ہوگا،اور اجنبی عورت کے غیر یعنی بیوی یا محرمہ عورت کی صورت میں قتل حلال ہے(مطلقا)اھ،اور اس کو نہر میں بزازیہ وغیرہ کے بیان پر کہ تمام عورتوں یعنی اجنبی اور غیر اجنبی کا معاملہ مساوی ہے،ردکیا ہے۔اور اس پر ہندوانی کے بیان میں عورت کو نکرہ ذکر کرنا بھی دلالت کرتا ہے کہ کوئی عورت ہو، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع