30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتارمیں ہے:
|
عزاہ بعضھم ایضا الی جامع الفتاوٰی وحدود البزازیۃ وحاصلہ انہ یحل دیانۃ لاقضاء فلایصدقہ القاضی الاببینۃ،ولاظاہر انہ یأتی ھنا التفصیل المذکور فی السرقۃ وھو مافی البزازیۃ وغیرہا ان لم یکن لصاحب الداربینۃ فان لم یکن المقتول معروفا بالشروالسرقۃ قتل صاحب الدار قصاصًا وان کان متھما بہ فکذٰلك قیاساوفی الاستحسان تجب الدیۃ فی مالہ لورثۃ المقتول لان دلالۃ الحال اورثت شبھۃ فی القصاص لافی المال[1]۔ |
اس بات کو بعض نے جامع الفتاوی اور بزازیہ کے باب الحدود کی طرف بھی منسوب کیا ہے،اور اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بات دیانۃً جائز ہے قضاءً نہیں،لہذا قاضی زنا کو بغیر گواہی کے تسلیم نہ کرے گا،اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں وہ تفصیل مرا د ہوگی جو سرقہ کے باب میں بیان ہوئی ہے اور وہ بزازیہ وغیرہ میں یوں ہے(گھر والے نے چور کو موقعہ پر قتل کردیا)تو گھر والے کے پاس چوری پر گواہ نہ ہوں اور وہ مقتول جرائم اور چوری میں مشہور بھی نہ ہو تو قاضی قاتل کو قصاص کے طور پر قتل کرے گا،اور مقتول چوراگر چوری میں مشہور ہے تو قیاس پھر بھی یہی حکم کرتا ہے جبکہ استحسان یہ ہے کہ اس صورت میں گھر والے قاتل کو قتل کی بجائے دیت لازم ہوگی جو مقتول کے ورثاء کو دینی ہوگی کیونکہ موقعہ نے قصاص کے متعلق شبہہ پیدا کیا جس کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے گا لیکن مالی سزا یعنی دیت میں شبہہ پیدا نہ کیا۔(ت) |
یہ ہے وہ جو فقیر کے نزدیك منقح ہوا۔
|
وھا انا اذکر لکم فی الدرالمختار وماعارضہ بہ فی رد المحتار و ماتکلمت علیہ فی جدالممتار لیتجلٰی الامر جلاء النھار وما توفیقی الابالعزیز الغفار قال فی تنویر الابصار والدرالمختار (ویکون)التعزیر (بالقتل) |
اور اب میں آپ کو درمختاراور اس پر ردالمحتار نے معارضہ پیش کیا اور پھر میں نے جدالممتار میں جواس پر کلام پیش کیا ہے،پیش کرتا ہوں تاکہ روز روشن کی طرح معاملہ واضح ہو جائے جبکہ مجھے صرف اﷲ تعالٰی سے توفیق حاصل ہوئی، تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا:(تعزیر کے طور پر قتل کی صورت یہ ہے)مثلًا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع