30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریك گناہ و مستحق عذاب ہیں،
|
قال اﷲ تعالٰ کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوْنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئْسَ مَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:وہ ان بدکرداروں کو برائی سے منع نہ کرتے تھے البتہ جو وہ کرتے تھے بہت برا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٢٧٣: از موضع علی پور ضلع پٹرا مسئولہ منصب علی صاحب ١٢ شعبان ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نابالغ یا بالغ نے بکری یاگائے یا بھینس کے ساتھ مجامعت کی اس شخص کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟اور نیز اس جانور کا گوشت کھانا یا پالنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:
نابالغ کو تنبیہ کریں بالغ پر تعزیر ہے جس کااختیار حاکم کو ہے،وہ جانور ذبح کرکے فنا کردیا جائے گوشت کھال جلائیں،پالانہ جائے۔درمختارمیں ہے:
|
لایحدبوطی بھیمۃ بل یعزر و تذبح ثم تحرق ویکرہ الانتفاع بھاحیۃ ومیتۃ مجتبی[2]۔ |
حیوان سے بدفعلی پر حدنہیں ہے بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے اور جانور کو ذبح کرکے جلادیا جائے کیونکہ اس جانور مردہ یا زندہ سے انتفاع حاصل کرنا مکروہ ہے،مجتبیٰ۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ھذا اذاکانت ممالایؤکل فان کانت تؤکل جازاکلھا عندہ وقالالاتحرق ایضازیلعی ونھر[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ حکم اس جانور کے متعلق ہے جس کو کھایا نہیں جاتا،اور اگراس کو کھایا جاتا ہوتو کھانا جائزہے،امام صاحب کے نزدیك اور صاحبین نے فرمایا اسکو جلابھی دیا جائے زیلعی ونہر۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٢٧٤: کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ ایسے شخص سے ملنا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع