30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کے قابل ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٧٠:شہر شاہجہان پور تارمین گلی برمکان حضرت قاری صاحب مرحوم مولوی حکیم سید محمد آزاد یزدانی حسرت شاہجہان پوری ٩محرم الحرام ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محرماتِ اندی یعنی ماں بہن وغیرہ سے جو جان بوجھ کر نکاح اور صحبت کرے تو اس پر حدِ شرعی نہیں آتی۔یہ مسئلہ ہدایہ جلدنمبر١ ص٤٩٦،کنز اردو ص١٧۵،ہدایہ مترجم فارسی جلد ٢ص٣٤میں ہے،آیا یہ مسئلہ صحیح ہے یاغلط؟
الجواب:
گناہ تین قسم ہیں:
۱ایك ہلکے کہ حد کی حد تك نہ پہنچے،جیسے اجنبیہ سے بوس و کنار،ان پر حد مقرر نہیں ہوگی کہ ان کی مقدار سے زیادہ ہے،اور مولٰی عزوجل اس سے پاك ہے کہ کسی مجرم کو اس کی حدِ جرم سے زیادہ سزادے۔ایسے گناہوں پر تعزیر رکھی جاتی ہے۔
۲دوسرے وہ اخبث درجہ کے گناہ کہ حد کی حد سے گزرے ہوئے ہیں جیسے صورۃ مذکورہ سوال۔ان پر بھی حد نہیں رکھی جاتی کہ حد اس گناہ سے پاك کردینے کی ہوتی ہے اورایسا خبیث گناہ اس حد سے پاك نہیں ہوتا۔
۳تیسرے متوسط درجہ،ان پر حدود ہیں۔اس کی نظیرپیشاب اور شراب،پیشاب شراب سے خبیث تر ہے کہ کبھی شریعت میں اس کی ایك بوند حلال یا طاہر نہ ٹھہرسکی،بایں وجہ شراب پینے پر حد ہے اور پیشاب پینے پر حد نہیں،یونہی اجنبیہ سے زنا پر حد ہے اور محارم سے نکاح پر نہیں کہ وہ خبیث کام ہے جسے حد سنبھال نہیں سکتی،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٧١: از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ ضلع ایٹہ مسئولہ سید غلام شبر ٢٠رمضان ١٣٣٥ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ زنِ پارسامکان سے تفریحًا شب ماہ میں بین المغرب والعشاء دروازہ کے سامنے مشرق و مغرب پچاس قدم کے فاصلہ سے اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ ٹہلتی تھی اور ہندہ کا چچازاد بھائی زید بھی ساتھ تھاہندہ نے جبکہ آگے شارع عام کی طرف بڑھنے کا قصد کیا تو زید مانع ہوا اور کہا مردانہ مکان ہے یہ مقام شارع عام ہے بس آگے نہ جائیے اندر زنانے میں چلئے،یہ کہہ کر زید نے ہندہ کے پس پشت سے ہندہ کے بازو پکڑ کر دروازے کی طرف پھیر دیا،ہندہ نے زید کے کلام کی تردید کی اور چند قدم مردانے مکان کی طرف جاکر پھر از خود زنانے مکان میں چلی گئی،چند روز بعد جبکہ ہندہ سے کئی نامشروع حرکات سرزد ہوچکیں اور زید پھر مانع ہوا اسوقت ہندہ نے اس کا اظہار کیا کہ زید نے بھی فلاں روز میرے جسم کو بدنیتی سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع