30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوں خواہ کسی کے ساتھ،اور ان گناہوں کے لئے شرع نے کوئی حد مقرر نہ فرمائی تو ان میں سزائے تعزیر ہے جس کااختیار حاکمِ شرع کو ہے،جو سزا مناسب دے،مگر مارے تو انتالیس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے،اور امام ابویوسف کے نزدیك پچھتر،اور اسی پر فتوی ہے۔اشباہ میں ہے:
|
ضابطۃ التعزیر کل معصیۃ لیس فیھا حد مقدر ففیہ التعزیر[1]۔ |
ضابطہ تعزیر یہ ہے کہ جس گناہ کےلئے کوئی حد مقرر نہ ہو اس پر تعزیر ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
من اٰذٰی غیرہ بقول او فعل یعزر کذافی التاتار خانیۃ[2]۔ |
جس نے کسی دوسرے کو اپنے عمل یا قول سے اذیت دی تو اس پر تعزیر ہے،جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے(ت) |
درمختار میں ہے:
|
التعزیر لیس فیہ تقدیر بل ھو مفوض الی رأی القاضی[3]۔ |
تعزیر میں سزا مقرر نہیں ہے بلکہ وہ قاضی کی رائے پر موقوف ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
اکثرہ تسعۃ وثلثون سوطا لوبالضرب[4]۔ |
تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہیں،یہ سزا مارنے کی ہے۔(ت) |
پھر یہ حکم بہتان زنا کے سوا اور بہتانوں میں ہے اور اگر مرد اپنی عورت کو صاف زنا کی تہمت لگائے خواہ بالقصد تہمت لگانا ہی منظور ہو یا جس طرح بیباك عوام میں کچھ لفظ دشنام کے رائج ہیں کہ غصہ میں زبان سے نکالتے ہیں اور ان کے معنیٰ میں صراحۃًزنا کا۔۔۔۔۔۔(جواب ناقص ملا)
مسئلہ٢٥٥تا٢٦٤:ازنیپال گنج بازار ڈاك خانہ روپی ڈیہہ ضلع بہرائچ مسئولہ مولوی حبیب اﷲ محبوب علی شاہ دوشنبہ ٢١محرم الحرام ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(١)ایك محصن مرد اور محصنہ عورت بعلت زنا مشتہر ہوکر دونوں نے بجلسہ عام اقرارِ زنا کیا گو موقعہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع