30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٣)حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں:
|
حضرت امیر وذریۃ طاہرہ اور اتمام امت برمثال پیراں و مرشداں می پرستند وامور تکوینیہ را بایشاں وابستہ می دانند وفاتحہ و در ود صدقات و نذر بنام ایشاں رائج و معمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء اﷲ ہمیں معاملہ است فاتحہ ودرود ونذر وعرس و مجلس۔[1] |
حضرت امیر(علی کرم اﷲ وجہہ)اور ان کی اولاد پاك کو تمام امت پیروں اور مرشد وں کی طرح سمجھتی ہے اور تکوینی امور فاتحہ،درود،صدقات اور نذر ونیازان کے نام سے رائج ہیں اور معمول بنا ہوا ہے،چنانچہ تمام اولیاء کرام سے یہی معاملہ ہے کہ ان کے نام پر نذر و نیاز،فاتحہ،درود،عرس اور مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔(ت) |
فوائدِ عظیمہ جلیلہ
مسلمان دیکھیں دونوں شاہ صاحبوں کی ان تینوں عبارتوں سے کتنے جلیل و جمیل وہابیت کش فائدے حاصل ہوئے،وﷲالحمد:
(١)اولیاء کا اپنے حاضرینِ مزارات پر مطلع ہونا(٢)ان سے کلام فرمانا کہ جب حضرت مخدوم الہ دیا قدس سرہ کے مزار شریف پر شاہ ولی اﷲ صاحب کے والد عبدالرحیم صاحب حاضر ہوئے حضرت نے مزار شریف سے ان کی دعوت کی اور فرمایا کچھ کھاکر جانا(٣)اولیائے کرام کا بعد وفات پر غیبوں پر اطلاع پانا کہ حضرت مخدوم قدس سرہ کو معلوم ہوا کہ ۱ایك عورت نے اپنے شوہر کے آنے پر ہماری نذر مانی ہے ۲اور یہ آج اس کا شوہر آئیگا ۳اور یہ کہ عورت اسی وقت ہماری نذر کے چاول اور شیرینی حاضر کرے گی(٤)اولیاء کی نذر(٥)مصیبت کے وقت اس کے دفع کواولیاء کی نذر ماننی(٦)ان کی نذر مان کر پوری نہ کرنے سے بلاآنا اگرچہ وہ پورانہ کرنا بھول جانے سے ہو(٧)اس نذر کے پوراکرتے ہی فورًا بلاکادفع ہونا کہ فرہاد بیگ نے کسی مشکل کے وقت شاہ ولی اﷲ صاحب کے والد کی نذر مانی پھر یاد نہ رہی،گھوڑا مرنے کے قریب پہنچ گیا،شاہ صاحب کو معلوم ہوا کہ اس پر یہ مصیبت ہماری نذر پوری نہ کرنے سے ہے،اس سے فرمابھیجا کہ گھوڑا بچانا چاہتے ہوتو ہماری منت پوری کرو،اس نے وہ نذر پوری کی گھوڑا فورًا اچھا ہوگیا(٨)فاتحہ مروّجہ(٩)عرس اولیاء(١٠)ان سب سے بڑھ کریہ پانچ بھاری غضب کہ پیر پرستی (١١)مولیٰ علی وائمہ اطہار کی بندگی(١٢)اس پرستاری و بندگی پر تمام امتِ مرحومہ کا اجماع(١٣)فتح،شکست،تندرستی، دولتمندی،تنگدستی،اولاد ہونانہ ہونا،مراد ملنا نہ ملنا،اور ان کے مثل احکام تکوینیہ کا مولیٰ علی و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع