30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الحبیب لایخفی عن حبیبہ شیأ ومن عرف اﷲ عز وجل عرفہ کل شیئ۔اے شخص!بیشك محبوب اپنے محبوبوں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھتاجسے اﷲ کی معرفت ملتی ہے اﷲ اسے ہر چیز کا علم عطا کرتاہے۔پھر بیل والے سے فرمایا:تو اپنے دل میں میرا شاکی تھا اور کہہ رہا تھا کہ میرا بیل تو مارا گیا اور خداجانے یہ بیل کہاں کا ہے مبادا کوئی اسے میرے پاس پہچان کر مجھے ایذا دے۔یہ سن کر بیل والا رونے لگا۔فرمایا:کیا تونے نہ جانا کہ میں تیرے دل کی جانتا ہوں جااﷲاس بیل کو تجھ پر مبارك کرے۔وہ بیل کولے کر چند قدم چلااب اسے یہ خطرہ گزرا کہ مبادا مجھے یا میرے بیل کو کوئی شیر آڑے آئے۔فرمایا:شیر کا خوف ہے؟عرض کی:ہاں۔حضرت نے جو شیر سامنے حاضر تھے ان میں سے ایك کو حکم دیا کہ اسے اور اس کے بیل کو بحفاظت پہنچادے۔شیر اٹھا اور ساتھ ہولیا اس کے پاس سے شیر وغیرہ کو دور کرتا کبھی اس کے داہنے کبھی بائیں کبھی پیچھے چلتا یہاں تك کہ وہ امن کی جگہ پہنچ گیا اور اپنا قصہ حضرت احمد رفاعی سے عرض کیا،حضرت روئے اور فرمایا:ابن مرزوق کے بعد ان جیسا پیدا ہونا دشوار ہے۔اور اﷲ تعالٰی نے اس بیل میں برکت رکھی کہ وہ شخص بڑامالدار ہوگیا[1]۔
(١١)امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب مستطاب طبقات کبرٰی احوال حضرت سیدی ابوالمواہب محمد شاذلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں فرماتے ہیں:
وکان رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول رایت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اذاکان لك حاجۃ واردت قضاء ھافانذر لنفیسۃ الطاہرۃ ولوفلسافان حاجتك تقضی[2]یعنی حضرت ممدوح رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھاحضور نے فرمایا جب تمہیں کوئی حاجت ہو اور اس کا پورا ہونا چاہو تو سیدہ طاہرہ حضرت نفیسہ کے لئے کچھ نذر مان لیا کرو اگرچہ ایك ہی پیسہ ہوتمہاری حاجت پوری ہوگی۔
یہ ہیں اولیاء کی نذریں،اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ نذراولیاء کو ما اھلّ بہ لغیراﷲ میں داخل کرنا باطل ہے،ایسا ہوتا تو ائمہ دین کیونکر اسے قبول فرماتے اور کھاتے کھلاتے بلکہ ما اھلّ بہ لغیراﷲ وہ جانور ہے جو ذبح کے وقت تکبیرمیں غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا۔اب امام الطائفہ اسمٰعیل دہلوی صاحب کے باپوں کے بھی اقوال لیجئے:
(١)جناب شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی مولوی اسمٰعیل کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر انفاس العارفین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع