30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے بچھڑے کو لے لیا اور واپس چلاگیا۔
(١٠)نیزفرماتے ہیں:اخبرنا ابوزیدعبدالرحمٰن بن سالم احمد القرشی قال سمعت الشیخ العارف اباالفتح بن ابی الغنائم بالاسکندریۃ[1]،ہمیں ابوزید عبدالرحمٰن بن سالم بن احمد قرشی نے خبردی کہ میں نے حضرت عارف باﷲابوالفتح بن ابی الغنائم سے اسکندر یہ میں سنا کہ اہل بطائح سے ایك شخص دبلا بیل کھینچتا ہوا ہمارے شیخ حضرت سیداحمد رفاعی رضی تعالٰی عنہ کے حضورلایا اور عرض کی:اے میرے آقا!میرااور میرے بال بچوں کا قوت اسی بیل کے ذریعہ سے ہے اب یہ ضعیف ہوگیا اس کے لئے قوت و برکت کی دعا فرمائیے۔حضرت نے فرمایا:شیخ عثمان بن مرزوق(بطائحی رضی اﷲ تعالٰی عنہ)کے پاس جا اور انہیں میرا سلام کہہ اور ان سے میرے لئے دعاچاہ۔وہ بیل کو لے کر یہاں حاضر ہوا،دیکھا کہ حضرت سیدی عثمان تشریف فرماہیں اور ان کے گرد شیرحلقہ باندھے ہیں،یہ پاس حاضر ہوتے ڈرا،فرمایا:آگے آ۔قریب گیا،قبل اس کے کہ یہ حضرت رفاعی کا پیام پہنچائے سیدی عثمان نے خود فرمایا کہ میرے بھائی شیخ احمد پر سلام،اﷲ میرا اور ان کاخاتمہ بالخیر فرمائے،پھر ایك شیر کو اشارہ فرمایا کہ اٹھ اس بیل کوپھاڑ۔شیر اٹھااور بیل کو مار کر اس میں سے کھایا،حضرت نے فرمایا:ا ب اٹھ آ۔وہ اٹھ آیا،پھر دوسرے شیر سے فرمایا:اٹھ اس میں سے کھا۔وہ اٹھا اور کھایا۔پھر اسے بلایا۔تیسرا شیر بھیجا،یونہی ایك ایك شیر بھیجتے رہے یہاں تك کہ انہوں نے سارا بیل کھالیا،اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ بطیحہ کی طرف سے ایك بہت فربہ بیل آیااور حضرت کے سامنے کھڑا ہوا،حضرت نے اس شخص سے فرمایا:اپنے بیل کے بدلے یہ بیل لے لو۔اس نے اسے پکڑتو لیا مگر دل میں کہتا تھا میرا بیل تو مارا گیا اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی اس بیل کو میرے پاس پہچان کر مجھے ستائے،ناگاہ ایك شخص دوڑتا ہوا آیااور حضرت کے دست مبارك کو بوسہ دے کر عرض کی:یاسیدی نذرت لك ثوراواتیت بہ الی البطیحۃ فاستلب منی ولاادری این ذھب [2]اے میرے مولیٰ!میں نے ایك بیل حضور کی نذر کا رکھا تھا اسے بطیحہ تك لایا وہاں سے میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا معلوم نہیں کہاں گیا،فرمایا:قد وصل الیناھا ھو تراہ [3]وہ ہمیں پہنچ گیا یہ دیکھو یہ تمہارے سامنے ہے۔وہ شخص قدموں پر گرپڑااور حضرت کے پائے مبارك چوم کر کہا:اے میرے مولا!خدا کی قسم اﷲ نے حضرت کو ہر چیز کی معرفت بخشی اور ہر چیز یہاں تك کہ جانوروں کو حضرت کی پہچان کرادی،حضرت نے فرمایا:ھذا ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع