30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکابر اولیائے عراق سے ہیں،اولیاء وعلماء نے ان کی تعظیم پرا جماع کیا،اور ہر طرف سے مسلمان ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر لاتے۔
(٦)نیز فرماتے ہیں:لم یکن لاحد من مشائخ العراق فی عصر الشیخ علی بن الھیتی فتوح اکثر من فتوحہ کان ینذرلہ من کل بلد[1]حضرت علی بن ہیتی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے زمانے میں اولیائے عراق سے کسی کی فتوح ان کے مثل نہ تھی ہر شہر سے ان کی نذر آتی۔
(٧)نیز فرماتے ہیں:الشیخ ابوسعید القیلوی احد اعیان المشائخ بالعراق حضر مجلسہ المشائخ والعلماء وقصد بالزیارات والنذور[2]حضرت ابوسعید قیلوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اکابر اولیائے عراق سے ہیں مسلمان ان کی زیارت کو آتے اور ان کی نذر کی جاتی۔
(٨)نیز فرماتے ہیں:اخبرنا ابوالحسن علی بن الحسن السامری قال اخبرنا ابی قال سمعت والدی رحمہ اﷲ تعالٰی یقول کانت نفقۃ شیخننا الشیخ جاگیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ من الغیب وکان نافذالتصریف خارق الفعل متواتر الکشف ینذرلہ کثیرا وکنت عندہ یوما فمرت بہ بقرات مع راعیھا فاشارالٰی احدٰھن وقال ھذہ حامل بعجل احمر اغرصفتہ کذاوکذاویولد وقت کذا یوم کذاوھو نذرلی وتذبحہ الفقراء یوم کذاویاکلہ فلان وفلان ثم اشارالی اخری وقال ھذہ حامل بانثی ومن وصفھا کذاوکذاتولد وقت کذاوھی نذرلی یذبحھا فلان رجل من الفقراء یوم کذاویاکلھا فلان وفلان ولکلب احمر فیھا نصیب قال فواﷲ لقد جرت الحال علی ماوصف الشیخ[3]۔ہمیں خبردی ابوالحسن بن حسن سامری نے کہ ہمیں ہمارے والد نے خبردی،کہا میں نے اپنے والد سے سنا،فرماتے تھے ہمارے شیخ حضرت جاگیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا خرچ غیب سے چلتا تھا اور ان کا تصرف نافذ تھا ان کے کام کرامات تھے علی الاتصال انہیں کشف ہوتا تھا مسلمان کثرت سے ان کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع