30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نذریکہ اینجا مستعمل میشوعد نہ برمعنی شرعی ست چہ عرف آنست کہ آنچہ پیچ بزرگاں می برند نذر ونیاز می گویند[1] |
یہاں نذر کا لفظ شرعی نذر کے معنی میں استعمال نہیں کیونلہ عرف میں بزرگوں کو جو کچھ پیش کیاجاتا ہے اس کو نذر و نیاز کہتے ہیں۔(ت) |
امام اجل سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
ومن ھذاالقبیل زیارۃ القبور والتبرك بضرائح الاولیاء والصالحین والنذر لھم بتعلیق ذٰلك علٰی حصول شفاء او قدوم غائب فانہ مجاز عن الصدقۃ علی الخادمین بقبورھم کما قال الفقہاء فیمن دفع الزکاۃ لفقیر وسماھا قرضا صح لان العبرۃ بالمعنی لاباللفظ [2]یعنی اسی قبیل سے ہے زیارتِ قبور اور مزارات اولیاء وصلحاء سے برکت لینا اور بیمار کی شفایامسافر کے آنے پر اولیائے کرام کیلئے منت مانناکہ وہ ان کے خادمانِ قبور تصدق سے مجاز ہے جیسے فقہاء نے فرمایا ہے کہ فقیر کو زکوٰۃ دے اور قرض کا نام لے تو صحیح ہوجائے گی کہ اعتبار معنٰی کا ہے نہ کہ لفظ کا۔
ظاہر ہے کہ یہ نذر فقہی ہوتی تو احیا کے لئے بھی نہ ہوسکتی حالانکہ دونوں حالتوں میں یہ عرف وعمل قدیم سے اکابرین میں معمول و مقبول ہے۔امام اجل سیدی ابوالحسن نورالملۃ والدین علی بن یوسف بن جریر لخمی شطنوفی قدس سرہ العزیز جن کو امام فن رجال شمس الدین ذہبی نے طبقات القراء اور امام جلیل جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ میں الامام الاوحد کہا یعنی بے نظیر امام،اپنی کتاب مستطا ب بہجۃ الاسرار شریف میں محدثانہ اسانید صحیحہ معتبرہ سے روایت فرماتے ہیں:
(١)اخبرنا ابوالعفاف موسٰی بن عثمان البقاعی بالقاھرۃ ٦٦٣ قال اخبرنا ابی بدمشق ٦١٤ قال اخبرنا الشیخان الشیخ ابوعمروعثمان الصریفینی والشیخ ابو محمد عبدالحق الحریمی ببغداد ٥٥٩ قالا کنا بین یدی الشیخ محی الدین عبد القادررضی اﷲ تعالٰی عنہ بمدرسۃ یوم الاحد ثالث صفر ٥٥٥۔ہم سے ابوالعفاف موسیٰ بن بقاعی نے ٦٦٣ھ میں شہر قاہرہ میں حدیث بیان کی کہ ہمیں میرے والدِ ماجد عارف باﷲ ابوالمعانی عثمان نے ٦١٤ھ میں شہر دمشق میں خبردی کہ ہمیں دو ولی کامل حضرت ابوعمر و عثمان صریفینی وحضرت ابومحمد عبدالحق حریمی نے ٥٥٩ میں بغداد مقدس میں خبردی کہ ہم ٣صفر روزیك شنبہ ٥٥٥ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع