دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

سولھواں حصہ مقرر کیاہے۔

(١)اس سولھویں حصہ میں محفل میلاد شریف و نیاز گیارھویں شریف کرنا چاہئے یانہیں؟

(٢)اس سولھویں حصہ میں اپنے والدین و پھوپھی وخالہ و سید صاحب و مولوی صاحب کو دینا چاہئے یانہیں؟

(٣)اس سولھویں حصے میں سامع رمضان المبارك کو دینا و نیز افطاری رمضان المبارك کرنا چاہئے یانہیں؟

(٤)دربارہ زکوٰۃ مذکورہ کے روپے کو طالب علموں کی خورد ونوش و لباس میں صرف کرنا چاہئے یانہیں،اور زکوٰۃ کاروپیہ مؤذن کو دینا چاہئے یانہیں؟

الجواب:

اگر نہ یہ منت ہے نہ زکوٰۃ ہے بلکہ یونہی دل میں نیت کرلی یا بے الفاظِ نذر زبان سے کہہ لیا ہے کہ اپنے منافع تجارت سے سولھواں حصہ نیك کاموں میں اﷲ تعالٰی کےلئے صرف کیا کروں گا،جب تو اس سے محفل میلاد شریف اورگیارھویں شریف اور افطاری رمضان شریف اور اپنے والدین و سادات و علماء کی خدمت سب کچھ کرسکتا ہے کہ یہ سب نیك کام اﷲ تعالٰی ہی کےلئے ہیں جب کہ نیت خالص اﷲ عزوجل کے واسطے ہو،رمضان مبارك کا سامع اگر حاجتمند ہو اور اس سے اجرت نہ ٹھہری ہواور نہ رواج کی رو سے اجرت مقرر ہو تواسے بھی دے سکتاہے کہ اب اسے بھی دینا نیك کام ہے،اور اگر اجرت کی شرط ہولی یا ازروئے رواج اس کی اجرت کا قرار دیا ہے تو اسے دینا کچھ نیك کام نہیں بلکہ گناہ ہے،

لانہ اجارۃ علی الطاعۃ والاجارۃ علیھا باطلۃ الاما استثناہ المتاخرون من امامۃ واذان وتعلیم قراٰن ولیس ھذامنھا والتحقیق فی ردالمحتار وشفاء العلیل۔

کیونکہ یہ عبادت پر اجرت ہے اور عبادت پر اجرت لینا دینا باطل ہے مگر امامت پر یا اذان اور تعلیم قرآن پر اجرت جس کو متاخرین نے اس سے مستثنی قرار دیا ہے وہ اور چیز ہے یہ اس قبیل سے نہیں ہے،اس کی مکمل تحقیق ردالمحتار اور شفاء العلیل میں ہے۔ (ت)

اور اگر صورتِ مذکورہ میں ہر نیك کام کی نیت نہ تھی بلکہ بالخصوص مساکین کو خدا کے نام پر دینا تو وہ سب امور ابھی اس روپے سے جائز ہوں گے مگر یہ چاہئے کہ مجلس مبارك کا حصہ خاص محتاجین کودے،گیارہویں شریف کی نیاز،رمضان المبارك کی افطاری،صرف مساکین کو بانٹے،سادات و علماء میں انہیں کی نذر کرے جو حاجتمند ہوں،ماں باپ کو بھی بحالتِ حاجتمند دے سکتا ہے،

لاھنا لیست صدقۃ واجبۃ وانما نوی التصدق علی المساکین فاذاکان

کیونکہ یہ صدقہ واجب نہیں ہے اور اس نے مساکین پر تصدق کی نیت کی ہے تو جب ماں باپ بھی مساکین سے ہوں تو بطور صلہ ان پر صدقہ

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن