30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صرف نیت سے تو کچھ لازم نہیں ہوتا جب تك زبان سے الفاظ وایجاب نہ کہے،اور اگر زبان سے الفاظ مذکورہ کہے اور ان سے معنی صحیح مراد لئے یعنی پہلی تنخواہ اﷲ عزوجل کے نام پر تصدق کروں گا اور اس کا ثواب حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کے نذرکروں گا،یا پہلی تنخواہ اﷲ عزوجل کے لئے فقراء آستانہ پاك حضرت مخدوم رضی اﷲتعالٰی عنہ دوں گا،یہ نذر صحیح شرعی ہے،اور استحسانًا وجوب ہوگیا،پہلی تنخواہ اسے فقراء پر تصدق کرنی لازم ہوگئی۔مگر یہ اختیار ہے کہ فقراء آستانہ پاك کو دے، اور جہاں کے فقیروں محتاجوں کو چاہے۔اور اگر یہ معنی صحیح مراد نہ تھے بلکہ بعض سخت بے عقل جاہلوں کی طرح بے ارادہ تصدق وغیرہ قربات شرعیہ صرف یہی مقصود تھا کہ پہلی تنخواہ خود حضرت مخدوم کو دوں گا،تو یہ نذر باطل محض و گناہ عظیم ہوگی،مگر مسلمان پر ایسے معنی مراد لینے کی بدگمانی جائز نہیں جب تك وہ اپنی نیت سے صراحۃً اطلاع نہ دے۔اسی طرح اگر نذر وزیارت کرنے سے اس کی یہ مراد تھی کہ اﷲ کے واسطے عمارتِ زیارت شریف کی سپیدی کرادوں گا یا احاطہ مزار پر انوار میں روشنی کروں گا،جب بھی یہ نذر غیرلازم و نامعتبر ہے کہ ان افعال کی جنس سے کوئی واجب شرعی نہیں۔رہا یہ کہ جس حالت میں نذر صحیح ہوجائے،پہلی تنخواہ سے کیا مراد ہوگی یہ ظاہر ہے کہ عرف میں مطلق تنخواہ خصوصًا پہلی تنخواہ ایك مہینہ کی اجرت کو کہتے ہیں اگرچہ اس کا ایك جزء بھی تنخواہ ہے اور عمر بھر کا واجب بھی تنخواہ ہے،تو پہلی تنخواہ کہنے سے اول تنخواہ ایك ماہ ہی عرفًا لازم آئے گی۔
|
فان کلام کل عاقد وحالف وناذر وواقف انما یحمل علی ماھوالمتعارف [1]کمانصواعلیہ۔ |
کیونکہ کسی عقد والے،قسم والے،نذر والے اور وقف کرنے والے کے کلام کو متعارف معنی پر محمول کیا جائیگا جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فی الخانیۃ ان برءت من مرضی ھذا ذبحت شاۃ فبرأ لایلزمہ شیئ الاان یقول فللّٰہ علی ان اذبح شاۃ اھ وھی عبارۃ متن الدر و عللھا فی شرحہ بقولہ لان |
خانیہ میں مذکور ہے کہ جب کسی نے کہا کہ اگر میں اس مرض سے تندرست ہوجاؤں توبکری ذبح کروں گا،تو تندرست ہونے پر اس پر ذبح کرنا لازم نہیں ہوگا مگر جب یوں کہے کہ اﷲتعالٰی کے لئے مجھ پر لازم ہے کہ میں بکری ذبح کروں گا (توپھر نذر ہوگی اور پورا کرنا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع