30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وکذا قولہ"انی نذرت للرحمٰن صوما"فالمنھی عنہ ھو الاعتقاد علی ان النذر یغنی عن القدر[1]الخ اھ مختصرًا، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نیك بندوں کی مدح میں خودفرمایا کہ وہ نذروں کو پورا کرتے ہیں۔اورفرمایا:جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں وقف کرتی ہوں۔اور میں کہتا ہوں یونہی اﷲ تعالٰی کافرمان ہے،میں نے اﷲ تعالٰی رحمٰن کےلئے روزہ کی نذر مانی ہے۔تومعلوم ہوا کہ حدیث میں نہی کا تعلق اس نذر سے ہے جس میں یہ عقیدہ شامل ہوکہ یہ نذر تقدیر سے مستغنی کردے گی الخ اھ وا ﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٢٣٧تا٢٣٩: ازدلیل گنج ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب ١٥ذیقعدہ ١٣١٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(١)کسی شخص نے نذرمانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں گائے کے سر کی نیاز کروں گا،اگر وہ شخص بجائے سر کے اور جگہ کے گوشت کی نیاز کرے اور مساکین کو کھلائے تو اس سے واجب ادا ہوگا یانہیں؟
(٢)کسی نے بکری یا مرغی موجودہ کی نسبت مخصوص کرکے کہا کہ میں اس بکری یا مرغی کی نیاز کروں گا،پھر کسی وجہ سے وہ مفقود ہوگئیں تو بجائے اس کے دوسری بکری مرغی یا گائے وغیرہ کی اسی قدر گوشت سے نیاز ہوگی یانہیں؟ بینواتوجروا۔
(٣)کسی نے مسجد کا طاق بھرنا گلگلویامانڈوں سے مانا،اگروہ مسجد کا طاق نہ بھرے اور گھر پر تقسیم کردے تو نذر پوری ہوگی یانہیں؟
الجواب:
(١)سر کی تعیین کچھ ضروری نہیں ا س قدر قیمت کا گوشت بھی کافی ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
(٢)اگر یہ نیاز نہ کسی شرط پر معلق تھی مثلًا میرا یہ کام ہوجائے تو اس جانور کی نذر کروں گا،نہ کوئی ایجاب تھا مثلًا اﷲ کےلئے مجھ پر یہ نیاز کرنی لازم ہے جب تو یہ نذر شرعی ہونہیں سکتی،اور اگر لفظ ایسے تھے جن سے شرعًا وجوب ہوگیا تو جبکہ ایجاب خاص جانور معین سے متعلق تھا اس کے گمنے یا مرنے کے بعد دوسرا اس کی جگہ قائم کرنا کچھ ضرور نہیں،نہ اس نذر کا اس پر مطالبہ رہا،اگر دوسرا جانور کردے گا تو تبرع ہے۔ردالمحتار میں ہے:
|
المنذورۃ بعینھا لوھلکت اوضاعت |
نذرمانی ہوئی چیز بعینہ اگر ہلاك ہوجائے یاضائع ہوجائے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع