30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جاز ان ساوی العشرۃ کتصدقہ بثمنہ[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
دس درہم کے برابر کوئی اور چیز صدقہ کردی تو جائز ہے،یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ روٹی کے بجائے دس درہم دے دے تو جائز ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٢٣٦: ٢٧شوال ١٣١٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں عــــہ۱ کالڑکابیمار ہوا اس کے والدین نے منت مانی کہ یااﷲ!اگر میرے لڑکے کو آرام ہوجائے تو رکھیں عــــہ۲ رکھیں گے تیری نذر میں تین محتاج کھلائیں گے اور پچاس رکعت نماز پڑھیں گے۔یہ کلمہ مولوی نے دامتی مقررکیا ہے اور اس منت کو حضرت نے بھی منع کیا ہے۔
الجواب:
اس مولوی نے غلط کہا اﷲ عزوجل نے پورا کرنے کا قرآن مجید میں حکم دیا ہے وَلْیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمْ [2]یعنی مسلمانوں پر لازم کہ اپنی نذریں پوری کریں،نذریں پوری کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ[3]نذرپوری کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کی وفا کا حکم دیا ہے۔بخاری شریف میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے من نذران یطیع اﷲ فلیطعہ ومن نذران یعصیہ فلایعصہ [4]یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی طاعت الٰہی مثل نماز و روزہ و صدقہ وغیرہ کی منت مانے وہ بجالائے اور جو کسی گناہ کی منت مانے وہ باز رہے۔ہاں یہ سمجھنا کہ نذر ماننے سے تقدیر الٰہی بدل جائے گی جو نعمت نصیب میں نہیں وہ مل جائے گی جو بلا مقدر میں ہے وہ ٹل جائے گی،یہ اعتقاد فاسد ہے،ایسی ہی نذر سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے حدیث شیخین:
|
(لاتنذروا،فان النذرلایغنی من القدر شیأ وانما یستخرج بہ من البخیل[5]۔ |
نذر نہ مانا کرو،کیونکہ نذر تقدیر سے مستغنی نہیں کرتی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ نذر کے سبب بخیل سے مال خرچ کرایا جاتا ہے۔)(ت) |
عــــہ۱:مسودہ میں بیاض ہے۔ عــــہ۲:مسودہ میں بیاض ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع