30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٢٣١: از پنڈول بزرگ ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ١٤ربیع الاول شریف ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی کہے یعنی منت مانے کہ جان کا بدلہ صدقہ مسجد میں لے جائینگے،اور اسی کو بعض یوں کہتے ہیں کہ جان بچ جائے یا کام بن جائے تو نذر اﷲ مصلی کو کھلائیں گے،تو یہ جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
مساجد میں شیرینی لے جائیں گے یا نمازیوں کو کھلائیں گے،یہ کوئی نذر شرعی نہیں،جب تك خاص فقراء کے لئے نہ کہے اسے امیر فقیرجس کو دےسب لے سکتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٣٢: از چوہر کوٹ بارکھان ملك ببلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ١٤ربیع الاول شریف١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
|
اگر کسے نذر کردکہ فلاں حاجتِ من برآید بارواح فلاں مشائخ برائے اﷲ فلاں نر گاؤ یا گو سفند خواہم کشت یا بدہم چوں حاجت اوبرآمد اکنوں گوید کہ آں نرگاؤ کہ نذر کردم بدیگر گوسفنداں بدل کردہ خیرات کنم آیا منذورہ نرگاؤبعوض دیگر گوسفند بدل کردن جائز ست یاخود آں نرگاؤ راخیرات بکند۔ |
اگرکوئی یہ نذر مانے کہ میری فلاں حاجت پوری ہوجائے تو فلاں مشائخ کی روح کی برکت سے اﷲ تعالٰی کے لئے فلاں بیل یا فلاں بکرے کو ذبح کروں گا،اور جب حاجت پوری ہوجائے تو وہ کہے کہ فلاں بیل کے بدلے میں چند بکرے خیرات کردوں تو کیا بیل کے بدلے چند بکرے دینا جائز ہے یا وہی بیل جس کی نذر مانی تھی دینا ہوگا؟(ت) |
الجواب:
|
نذر کہ برجانور معین واقع شد تبدیلش روانیست قال تعالٰی وَلْیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمْ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نذر میں جو جانور معین کیا جائے اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنی نذریں پوری کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٢٣٣: از سکندر پور ضلع ببلیاپائی گلی مسئولہ محمد حسین وعطا حسین ٢٢رمضان المبارك ١٣٣٩ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شہید صاحبِ مزار بزرگ کی قبر شریف خام ہے اور زید نے نیت کی کہ میری مراد پوری ہوتو مزار شریف پختہ اینٹ سے بنوادوں گا،اﷲ تعالٰی نے ببرکت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع