دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

مسئلہ۲٢٥:مسئولہ عبدالکریم ہاشم لاکہ کوٹھی مقام بدامپور ڈاك خانہ رانگ دیٹہ ضلع مان پور روز پنجشنبہ تاریخ ٧ربیع الاول ١٣٣٤ھ

افضل الفضلا عالم یگانہ روز گار جناب مولٰنا صاحب مدظلہ العالی،بعدادائے آداب وتسلیمات بصدتعظیم و تکریم وہدیہ سلام مسنون الاسلام معروض خدمت سراپابرکت ہے کہ فدوی نے اپنے کارخانہ لاکہ کوٹھی میں یوم ابتدا کاروبار سے مسلم ارادہ کرلیا تھا کہ کارخانہ مذکور میں جو کچھ نفع ہوگا اسکے سولہ حصہ میں ایك حصہ خاص جناب سیدنا و مولٰنا پیرد ستگیر غوث الثقلین جناب محی الدین عبدالقادر جیلانی صاحب رحمۃ اﷲ علی مرقدہ وقدس اﷲ سرہ کا بطور تبرك نیاز کیا تھا اور ہے اور یوم ابتدا کاروبار سے بھی کہ جمع خرچ میں بھی ایك کنہ وہ جدابنام نامی اسم گرامی محب صمدان جناب سید محی الدین عبدالقادر صاحب جیلانی قدس اﷲ سرہ کے نام پاك سے موسوم کیاگیا ہے اور اب زمانہ اس کا چند سال کا ہوتا ہے کہ روپیہ نفع کا بھی جمع ہوگیا ہے تصدیعہ وہ خدمت کہ وہ روپیہ کن کن مصارف دینی میں خرچ ہوسکتا ہے یوم ابتدا کاروبارسے آج تك کوئی خاص ارادہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ تھا کہ وہ نفع روپیہ فلاں کارِ خیر میں خرچ کیا جائے گا،اب خلاصہ دریافت مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی مسجد بے مرمت اور ویران پڑی ہے او رمسلمان یہاں کے بہت غریب ہیں جس سے مرمت کا ہونا بہت دشوار ہے تو ایسی حالت میں جو روپیہ نفع کا ہے اس کو مصارف مسجدمیں خرچ کیا جاسکتا ہے کہ نہیں،ایسی حالت میں علمائے دین کا کیا اتفاق ہے اور علاوہ اس کے کن کن مصارف میں وہ خرچ کیا جاسکتا ہے بواپسی ڈاك جواب سے سرفراز فرمادیں،فقط۔

الجواب:

نیت کرنے والوں کو مولٰی تعالٰی جزائے خیر دے بہت محمودنیت ہے اور ہر دینی مصرف میں اسے صرف کرسکتے ہیں مسجد ویران کی آبادی نہایت اہم کام ہے اس میں صرف کرنا مقدم ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ٢٢٦:          مرسلہ محمد ساجد علی شاذلی سلہٹی ضلع تیر پورہ                                ١٥ربیع الاول شریف١٣٣٥ھ

ماقولکم دام فیضکم اس میں بشوق حصول مطلوب غائب حاضر ہوتے یا لاولد واسطے فرزند کے یا مریض واسطے شفا کے وحاجات دینی و دنیوی کے واسطے یا فتح مہمات کے واسطے اﷲ تعالٰی میری مقصود حاصل کرے،پس واسطے اﷲ تعالٰی اتنا روپیہ یا قندیل یا بتی سراج کی یا شطرنجی یا مصلی یا طعام یا قربانی نذرﷲ فی سبیل اﷲ ماننا معین کرکے واسطے مسجد مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے،اور علماء و فقرا اور مساکین کے واسطے اہل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درست ہے یانہیں،اگر مقصود حاصل ہوئے پس ایسی نذر کے اسباب ارسال کرنا امانت دار کی معرفت سے ضرور ہے یانہیں،اگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ارسال نہ کرکے غیر ملك مکہ مدینہ منورہ کے علماء فقرا کو دیوے کھلاوے درست یا نہیں،اور ناذر کے ذمہ سے ساقط


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن