30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاکالحلف برحمتہ وجودہ وکرمہ لعدم التعارف وھذاھو منات الحلف الشرعی کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ |
عظمت اور جلال کی قسم ہے۔اور اﷲ تعالٰی کی رحمت،جوداور کرم کی قسم کی طرح نہیں جن سے قسم متعارف نہیں ہے،اور یہی متعارف ہونا نہ ہونا ہی شرعی قسم کا معیار ہے،جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت) |
ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لے کر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظاحلف و قسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگامثلًا کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایساکروں گا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢١٧: از شمس آباد کیمل پور مسئولہ غلام گیلانی سہ شنبہ ١٨شعبان ١٣٣٤ھ
|
زید حلف خورد کہ من بخانہ برادر خود ہرگز نان نخواہم خورد ورنہ کذاوکذاباشد بعدہ در تقریب شادی مرد ماں آں زید را برخوردن نان مجبور کردند او گفت کہ من بگفتہ شماایں نان را در تصور خوردم(یعنی حقیقۃً نمی خورم لیکن در تصور خود میخورم و چہ نخوردہ ام اما خوردہ گیر بایدم ایں واقعہ پیش علمائے دیاررفت مگر حکم بحنث داد واستناد او بایں عبارت حاشیہ اصول شاشی در بحث مقتضی بایں الفاظ ست عبارت اصول شاشی ولاتخصیص عن الفرد المطلق لان التخصیص یعتمد العموم ولاعموم للمقتضی[1]وعبارت فصول ایں ست فان قیل فلیراد الطعام الموصوف بصفۃ کذا قلنا ھذا اثبات وصف زائد علی المطلق وھو زیادۃ علی قدر الحاجۃ فلایثبت |
زید نے قسم کھائی کہ میں اپنے بھائی کے گھر ہرگز کھانا نہ کھاؤں گا اگر کھاؤں تو فلاں چیز لازم آئے،اس کے بعد شادی کی تقریب میں لوگوں نے اس کو کھانے پر مجبور کیا تو اس نے کہا میں تمہارے کہنے پر کھانے کا تصور کرلیتا ہوں،یعنی حقیقتًا نہ کھاؤں گا صرف اپنے تصور میں کھاؤں گا کیونکہ میں نے کھایا نہیں لیکن کھانے والاسمجھاجاؤں گا۔یہ واقعہ علاقہ کے علماء کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے اس بات پر قسم کے ٹوٹنے کا حکم دیا،اور ا سکی دلیل اصول شاشی کے حاشیہ کی اس عبارت کو بنایا ہے جو اصول شاشی میں مقتضی کی بحث میں ہے۔اصول شاشی کی عبارت یہ ہے کہ فرد مطلق میں تخصیص جاری نہیں ہوتی کیونکہ تخصیص کی بنیاد عموم پر ہے جبکہ متقضٰی میں عموم نہیں ہوتا۔اس پر حاشیہ فصول کی عبارت یہ ہے:اگر اعتراض کیا جائے کہ کھانے،کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع