30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲرب العٰلمین۔ |
یوں ا س نے اﷲ تعالٰی کے حرام کردہ کو حلال بنادیا ہے، دیوبندیوں کی دیوبندیت بن گئی، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،وصلی اﷲ تعالٰی علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہٖ واصحابہ اجمعین۔ وآخر دعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔(ت)(رسالہ ختم) |
مسئلہ٢١٥: از محلہ بہاری پوربریلی ٢٩/رجب ١٣٣٨ھ مرسلہ ریاض الدین احمد
کسی سچی بات کے لئے قرآن پاك کی قسم کھانا یا اس کا اٹھالینا گناہ ہے یانہیں؟آپ کو تکلیف دینے کی اس وجہ سے ضرورت ہوئی کہ ایك شخص سے کہا گیا کہ اگر تو سچا ہے تو قرآن شریف کواٹھالے۔اس کا اس نے جواب دیا کہ میں سچائی پر ہوں لیکن میں قرآن شریف نہیں اٹھا سکتا ہوں کیونکہ قرآن شریف اٹھانا ہر حالت میں گناہ ہے،دوسرا فریق کہتا ہے کہ سچا قرآن شریف اٹھانا گناہ نہیں ہے البتہ جھوٹا قرآن شریف اٹھانا گناہ ہے،مہر بانی فرما کر مطلع فرمائیے کہ دونوں باتوں میں کون سی بات سچی ہے؟
الجواب:
جھوٹی بات پر قرآن مجید کی قسم کھانا یا اٹھانا سخت عظیم گناہ کبیرہ ہے اور سچی بات پر قرآن عظیم کی قسم کھانے میں حرج نہیں اور ضرورت ہوتو اٹھابھی سکتا ہے مگر یہ قسم کو بہت سخت کرتا ہے،بلاضرورتِ خاصہ نہ چاہئے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢١٦: از برٹس گائنا براراتیرس وینج ایسٹ بنك مسئولہ عبدالغفور ٢٤صفر المظفر١٣٣٤ھ
اگر لوگوں نے کلام اﷲ کو ہاتھ میں لے کر حلف کیا اپنے پیش امام کی تابعداری کا،وہ حلف یمین ہوا یا کہ نہیں؟اور یاکہ شرف ہوا اﷲ تعالٰی کے ساتھ؟یاگناہ ہوا؟ اور یا کہ ایسا حلف قسم کلام کا ہوا؟ اور قسم کلام اﷲ کا کھانا درست ہے یاکہ نہیں؟ اور جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ غیر اﷲ کی قسم کھانا شرك ہے اور لوگوں نے حلف کیا ساتھ کلام اﷲ کے،تو وہ غیراﷲ کا قسم کہا جائے گا یاکیا کہا جائیگا؟فقط۔
الجواب:
کلام اﷲ،اﷲ عزوجل کی صفت قدیمہ ہے۔صفاتِ الٰہیہ عین ذات ہیں نہ کہ غیر ذات۔کلام اﷲ کی قسم ضرور حلف شرعی ہے،
|
لانہ من صفاتہ وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ |
کیونکہ یہ اﷲ تعالٰی کی ایسی صفات میں سے ہے جس کے ساتھ قسم کھانا متعارف ہے لہذا قرآن کے ساتھ حلف ایسا ہی ہے جیسا کہ اﷲتعالٰی کی عزت، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع