دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

مستلزم اوست کہ منع زوال ترك ازالہ است مع شے زائد اگر گوئی در انتفائے ترك برمنع بالقول اکتفاء کردہ اند کما تقدم پس اگر زید را بست و بزبان میگوید بیروں شو باید کہ ترك متحقق نشود کہ نافیش موجود ست وابقا یقینا حاصل پس غیر ترك باشد۔

 

 

 

اقول: بالادانستی کہ اصل منع بقدر قدرت ست وبمجرد نہی ہنگام تعسرش بسندہ کنند پس آنکہ اخراج تو آنست وبربروں شو اکتفاکرد تارك باشد چہ جائے آنکہ ترك خروج بفعل کرد از و مجرد بروں شود کہ صراحۃً ہزل و استہزاء است بلکہ گوئیا لفظ بے معنی است چہ کار آید پس ابقاء بحصول ترك حاصل ست وبستن امر زائد۔

 

 

 

شبہہ عاشرہ:سلمنا کہ ترك را عدم امر بخروج بس ست فامّا امر بعدم خروج نیز از وجوہ اوست پس ترك دو نوع شد وزیادت معنی در نوع خود قضیہ نوعیت ست پس حلف اگر بواقع ارادہ نوع اقوی کردہ باشد

خود بخود ابقاء نہیں بنتا بلکہ ابقاء کو مستلزم ہوتا ہے کیونکہ اس فعل سے ازالہ کا ترك منتفی ہوتا ہے تو باندھنے میں ترك ازالہ کے ساتھ ایك زائد چیز یعنی رکاوٹ،پائی گئی،جس میں ترك ازالہ پایا جاتا ہے۔اگر یہ اعتراض ہوکہ،ترك ازالہ کا خاتمہ،قولًا منع کرنے سے کافی ہوسکتاہے،جیسا کہ پہلے گزرا ہے،تو اب زید کو گھر میں باندھ کر پھر اس کو کہا جائے تو گھر سے باہر ہوجا،تو چاہئے کہ اس صورت میں ازالہ کا ترك متحقق نہ ہو،کیونکہ زبانی ترك کے باوجود،باندھنا اس ترك کی نفی ہے تو یقینا ابقاء یعنی گھر میں باقی رکھنا،حاصل ہوگیا،تو یوں یہ ترک،عدم کی بجائے ایك فعل کے وجود سے حاصل ہوا،لہذا انسانی ابقاء،وجودی ہوگیا۔(ت)

اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں)اوپر گزر چکا ہے،روکنا حسبِ قدرت مراد ہے،صرف قولًا اورزبانی روکنا وہاں مراد ہوتا ہے،جہاں عملًا روکنا ممکن نہ ہو،لیکن جب عملًا روکا جاسکتا ہو تووہاں محض زبانی روکنا اور یہ کہنا کہ باہر ہوجا،یہ روکنے کا ترك ہے اس پر مزید یہ کہ باندھنے کے فعل سے اس کو نکلنے سے روکنا اور پھر کہنا کہ باہر ہوجا،تو یہ صراحۃً مذاق ہے،بلکہ اس موقعہ پر یہ کہنا بے معنی اور بیکار ہے،لہذا اس صورت میں ابقاء(باقی رکھنا)ترك سے حاصل ہوا اور باندھنے کا فعل اس سے زائد چیز ہے(توثابت ہوا کہ بشری ابقاء محض ترك کانام ہے کسی وجودی چیز کانام نہیں)۔(ت)

دسواں شبہہ:یہ کہ ہمیں تسلیم ہے کہ،ترك یعنی چھوڑنے کےلئے نکل جانے کا حکم نہ دینا کافی ہے لیکن نہ نکلنے کے حکم سے بھی ترك پایا جاتا ہے پس ترك کی دو قسمیں ہوگئیں،ایك نکلنے کا حکم نہ دینا،اور دوسری قسم،نہ نکلنے کا حکم دینا،اور ایك

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن