دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 13 | فتاوی رضویہ جلد ۱۳

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۳

اینجا احتیاط عظیم باید کہ بعض مردم بایں مبتلاشدہ اند والعیاذ باﷲ تعالٰی بالجملہ اینست بقائے الٰہی عزّجلالہ فامّاانچہ از بشرست جز ترك ازالہ نیست ولہذااگر زرے در کیسہ نہاد و زن را گفت اگر چیزے از وتاصبح باقی مانی طلاق باشی،زن ہیچ خرچ نکرد یا برخے بصرف آورد و برخے باقی داشت طلاقہ شود و آں نیست مگر بہ ابقاواز زن نیاید مگر عدم انفاق پس ابقاء نبود مگر ہمیں عدم واگر فعلے بودے و زن خود دراں زر کارے نکردہ است تا آنکہ درکیس نہادن ہم بدست شوہر بود حنث نشدے ہمچناں اگر زید بدست عمرو چیزے ببیع فاسد فروخت قاضی مطلع شدہ برفروخت و گفت اگر امروز ایں بیع شمارا باقی مانم فکذا آفتاب فرورفت وقاضی حکم فسخ نہ کرد حانث شود پس ابقاء نبود مگر عدم فسخ واگر فعلے بودے قاضی خود متعلق آں بیع کارے نکردہ است حانث نبودے،پس ظاہر شد کہ ابقائے بشری جزترك ازالہ نیست اگر گوئی ابقاء بفعل ہم تواں شد مثلًا زید رابخانہ آورد وبزبخیر بست ایں بستن کہ فعل ست ابقاءشد۔

اقول: این فعل خود ابقاء نیست بلکہ

 

احتیا ط کی ضرورت ہے،بعض لوگ اس بے احتیاطی میں مبتلا ہیں والعیاذ باﷲ تعالٰی،خلاصہ یہ کہ،اﷲ تعالٰی کے باقی کرنے کا یہ حکم ہے،لیکن کسی انسان کا باقی رکھنا اور چھوڑنا،ازالہ کے ترك کا نام ہے،اس کے بغیر کچھ نہیں،اسی لئے اگر خاوند نے جیب یا تھیلی میں رقم رکھی ہو اور بیوی کو کہا"اگر تونے صبح تك اس میں سے کچھ باقی رکھا تو تجھے طلاق ہوگی" اب اگر اس نے اس میں سے کچھ خرچ نہ کیا یا کچھ کیا اور کچھ نہ کیا تو اس باقی رکھنے پر طلاق ہوجائے گی،تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ بیوی کا رقم کو باقی رکھنا صرف اور صرف یہ ہے کہ اس نے رقم کو خرچ نہ کیا،تو معلوم ہوا کہ باقی رکھنا(خرچ نہ کرنا)عدم ہے،اگر ابقاء کوئی فعل ہوتا،اور بیوی نے اس رقم میں تصرف نہ کیا بلکہ صرف خاوندنے وہ رقم تھیلی میں رکھی ہو،تو پھر اس صورت میں قسم نہ ٹوٹتی۔یوں ہی زید نے عمرو کے ہاتھ کوئی چیز فاسد بیع کے طور فروخت کی تو یہ معلوم ہونے پر قاضی کے غصہ آیا حکم جاری فرمایا کہ اگر آج تمہاری اس فاسد بیع کو باقی رکھوں تو یہ ہوگا،اب سورج غروب ہونے تك قاضی نے اس بیع کو فسخ نہ کیا تو حانث ہوجائے گا،تو یہاں بھی باقی رکھنا،صرف فسخ نہ کرنے کانام ہے،اگر ابقاء(باقی رکھنا)کوئی فعل ہوتا تو حانث نہ ہوتا کیونکہ قاضی نے اس بیع کے متعلق کوئی فعل اور عمل تو نہیں کیا،تو معلوم ہوا انسان کا باقی رکھنا صرف کسی ازالہ کو ترك کرنے کا نام ہے۔اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ کبھی ابقاء(باقی رکھنا)فعل سے بھی حاصل ہوتا ہے،مثلًا زید کو گھر میں لاکر زنجیر سے باندھ دیا،تو یہ باندھنا،زید کو گھر میں باقی رکھنا ہے،جبکہ باندھنا فعل ہے۔ (ت)

اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں کہ)باندھنے کا فعل

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن