30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فِی الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۹﴾ [1]ای ابقینالہ ثناء جمیلا[2]کمافی مجمع البحار وغیرہ وابقاء وجودی ست کہ بقاء وجودی ست۔ اقول: ابقاکہ حی قیوم عزجلالہ میکند عند المحققین وجودی باشد امابناء علی مذہب امام اھلسنت القاضی ابی بکر الباقلانی والامامین امام الحرمین والرازی ان البقاء عین الوجود لاامر زائد علیہ فالابقاء ھو الایجاد واما بناء علٰی مذہب ائمۃ الکشف والشہود من تجدد الامثال فی کل شئی حتی الجواھر فیکون الابقاء ایجاد الامثال کل حین ولہذا چنانکہ اطلاق باری وخالق برغیر او سبحٰنہ نیست اطلاق قیوم نیز نتواں شد بلکہ علماء بروتکفیر کردہ اند در مجمع الانہر فرمود اذا وصف اﷲ بما لایلیق بہ او نسبہ الی الجھل اوالعجز او النقص او اطلق علٰی المخلوق من الاسماء المختصۃ بالخالق نحو القدوس والقیوم والرحمٰن وغیرہا یکفر[3] (ملخصًا)
|
فِی الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۹﴾ ۔بعد والوں میں ہم نے ان کی اچھی ثناء باقی رکھی،جیسا کہ مجمع البحار وغیرہ میں ہے،چھوڑنا،باقی رکھنے کے معنی میں وجودی چیز ہے کیونکہ بقاء وجودی ہے۔(ت) اقول:(میں جواب میں کہتا ہوں)ابقا(باقی رکھنا)حیّ و قیّوم(جل جلالہ)کا فعل ہوتومحققین کے نزدیك وجودی ہے، اس لئے کہ امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی اور امام الحرمین اور امام رازی کے مذہب پر بقاء عینِ وجود کا نام ہے اور وجود سے زائد کسی صفت کا نام نہیں ہے،لہذا باقی رکھنا،یہ ایجاد ہوگا جو کہ وجودی ہے،لیکن ائمہ کشف وشہود کے مذہب پر،بقاء،ہر چیز کی امثال کے تجدد کا نام ہے،لہذا ابقا،اس معنی میں ہر چیز حتی کہ جواہر کی امثال کو ہر لمحہ،ایجاد،کرنے کا نام ہے،اس لئے جس طرح باری اور خالق جیسی صفات کا اﷲ تعالٰی کے بغیر کسی اور کے لئے اطلاق جائز نہیں اسی طرح قیوم کا اطلاق بھی غیر کے لیے جائز نہیں،بلکہ اس کا غیر اﷲ پر اطلاق علمائے کرام کے ہاں کفرہے،مجمع الانہر میں فرمایا کہ جو چیز اﷲ تعالٰی کی شایانِ شان نہ ہو یا جہالت،عجز اور نقص کی نسبت اس کی طرف کرنا،یا وہ صفات جو اﷲ تعالٰی کےلئے خاص ہیں ان کا مخلوق پر اطلاق کرناجیسے قدوس،قیوم،رحمٰن وغیرہا صفات ہیں،تویہ کفرہے،لہذا یہاں بڑی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع