30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذہ الدار بینھما معرفۃ ولکن لامحرمیۃ بینھما او کلمھا عــــہ رجل من ذوی الارحام و لیس من محارمھا فانہ یقع الطلاق[1]اقول: زیرا کہ محتمل ست کہ مرد باعتماد زن پیش ازیں روادار اینہا بود چوں دید کہ بااجنبی محض ہم سخن می شود در سنش تنگ تر کشید وبانام محرم سخن گفتن مطلقا منع کردپس اطلاق لفظ راتقییدے متقین متعین نشد، وباﷲالتوفیق۔ |
نہ ڈالیں،والعیاذ باﷲ،اس کے برخلاف اگر قسم کواجازت سے مشروط کیا ہوتو پھر اجازت کی ولایت ختم ہوجانے یعنی نکاح ختم ہوجانے پر قسم ساقط ہوجائیگی(٣)وہ جو گزراکہ خاوند نے بیوی سے کہا کہ تیری اجازت کے بغیر دوسری عورت کو بیوی نہ بناؤں گا،تو یہ قسم موجودہ بیوی سے نکاح کی حالت سے مختص نہ ہوگی(بلکہ اس بیوی سے نکاح ختم ہونے کے بعد بھی اس کی اجازت ضروری ہوگی)اقول:(میں کہتا ہوں)اس قسم کا مقصد بیوی کو پریشانی سے بچانا ہے ___کیونکہ بیوی کی پریشانی صرف نکاح کی حالت سے مختص نہیں کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ فرقت کے وقت بھی عورتیں سابقہ خاوند کی دوسری شادی سے غمگین ہوتی ہیں،اپنا وقت یاد کرکے اپنے بجائے دوسری کو رہتی دیکھ کر رنج پاتی ہیں،____ |
(غرضیکہ چونکہ بیوی کی پریشانی دوسری عورت کی وجہ سے صرف حالتِ نکاح سے مختص نہیں بلکہ جدائی کے بعد بھی اس چیز پر وہ پریشان ہوتی ہے لہذا اس پریشانی سے بچانا حالتِ نکاح کے بعد بھی ہوسکتا ہے لہذا یہ قسم بیوی سے فراق کے بعد قائم رہے گی)اس کے برخلاف اگر خاوند قسم کھائے کہ تو میری اجازت کے بغیر باہر نہ جائے گی تو یہ قسم حالتِ نکاح سے مقید ہوگی جیسا کہ اس کی وجہ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں۔(٤)بیوی کوغیر شخص سے بے تکلف باتیں کرتے ہوئے پائے تو اس وقت قسم کھائے کہ اس کے بعد اگر تونے بیگانے مرد سے بات کی نکاح کی رسی تیرے گلے سے نکل جائے گی یعنی تجھے طلاق ہوگی،جبکہ گھر میں نوکر چاکر ہیں جو خاوند کی اجازت سے گھر میں آتے جاتے ہیں جن کو بیوی گھر کے کاموں کے متعلق ہدایات دیتی ہے
|
عــــہ:اقول: والاولی کلمت رجلالان الحنث بکلامھما لابکلام غیرھا اذالم تجب ١٢منہ۔ |
اقول:(میں کہتا ہوں)یہاں بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے،عورت نے اس مرد سے بات کی۔کیونکہ عورت کے بات کرنے سے قسم ٹوٹے گی کسی دوسرے کے کلام کرنے سے نہ ٹوٹے گی،بشرطیکہ عورت غیر کو جواب نہ دے١٢منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع